مرزا صاحب نے صرف کسی نادان ہندو کی زبان سن کر بغیر اپنی ذاتی تحقیق کے یہ خس و خاشاک غلطیوں کا اس حظ میں بھر دیا ہے نہ معلوم کہ اُنہوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ ہندوؤں کے یہی خیالات اور عقاید ہیں یا جو اُن کے محققوں نے اپنی معتبر کتابوں میں لکھے ہیں۔ کیونکہ اوّل مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ وید کے چار دفتر ہیں۔ سو مرزا صاحب کی پہلی غلطی یہی ہے کہ وید کو ایک کتاب قرار دے کر اُس کے چار دفتر خیال کرتے ہیں بلکہ حق بات جس کا ثبوت امر بدیہی کی طرح حال کے زمانہ میں کھل گیا ہے کہ وید کی مجموعہ چار کتابیں ہیں جو چار مختلف زمانوں میں کئی لوگوں نے اُن کو بنایا ہے۔ چنانچہ چوتھا وید جو اتھرون سے موسوم ہے اُس کی نسبت اکثر پنڈتوں کی یہی رائے ہے کہ وہ پیچھے سے ویدوں کے ساتھ ملایا گیا ہے اور کسی برہمن نے اُس کو لکھا ہے اور اُس کے سوائے جو تین وید ہیں وہ الگ الگ کتابیں ہیں جن کو الگ الگ رشیوں نے جمع کیا ہے اور ہندوؤں کے محققوں کے نزدیک برہما کچھ چیز نہیں ہے بلکہ وید اگنی اور وایو اور سورج پر اُترے ہیں اور محقق ہندو یہ بھی کہتے ہیں کہ جو اَٹھارہ پُران اور شاستر وغیرہ اور اُپنشدین ہندوؤں کے ہاتھ میں ہیں وہ وید کے مضمون سے بہت سی مخالفت رکھتے ہیں اور بہت سے زواید اُن کتابوں میں پائے جاتے ہیں جو وید میں نہیں ہیں۔ مثلاً یہی خیال چاروں وید برہما کے چاروں مُکھ سے نکلے ہیں۔ اس کا کوئی اصل صحیح وید میں نہیں پایا جاتا۔ ایسا ہی یہ کہنا کہ دنیا کا کوئی خالق ہے وید کی رُو سے بڑا گناہ اور پاپ کی بات ہے بلکہ وید کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔ دنیا خود بخود قدیم سے ایسی ہی چلی آتی ہے۔ جیسا پرمیشر چلا آتا ہے اور پرمیشر کے وجود سے دنیا کے وجود کو کسی قسم کا فیض نہیں پہنچتا۔ یہاں تک کہ اگر پرمیشر کا مرنا بھی فرض کر لیا جائے تو دنیا کا اس میں کچھ بھی حرج نہیں اور ایسا ہی ہندوؤں کے محقق یہ بھی کہتے ہیں کہ حشر اجساد کچھ چیز نہھیں اور وید پر عمل کرنے سے ہرگز کسی کا گناہ عفو نہیں ہو سکتا اور نہ توبہ و استغفار کچھ کام آتی ہے بلکہ ایک گناہ کے عیوض میں ہر ایک شخص کو چوراسی جون سزا میں بھگتنی پڑے گی اُن کا یہ بھی قول ہے کہ وید اخبار راضیہ اور مستقبل سے بالکل خالی ہے اور کوئی امر خوارق عادت جو نبیوں سے ظہور میں آتا ہے اس میں