مرزا صاحب نے نہایت بے جا اور نامناسب کام کیا کہ بے خبر محض ہونے کی حالت میں وید دانی کا دعویٰ کر بیٹھے۔ اُن کے لئے یہی بہت فخر کی بات تھی کہ وہ اپنے فقیرانہ اشغال اور اذکار میں مشغول رہتے اور جس کوچہ میں ایک ذرّہ بھی اُن کی رسائی نہیں تھی اس کی نامعلوم خبریں لوگوں کو نہ بتلاتے۔ پھر مرزا صاحب اپنے مکتوبات میں یہ لکھتے ہیں کہ ہندوؤں کا وید چار دفتر ہیں جو احکام امرونہی و اخبار ماضیۂ مستقلبلہ پر مشتمل ہے اور یہ وید بذریعہ ایک فرشتہ کے جس کا نام برہما تھا بحوالہ ایجاد عام ہندوؤں کو پہنچا ہے اُسی وید میں سے اُن کے پُران اور شاستر نکالے گئے ہیں اس وید میں بلحاظ عمر طولانی عالم کی چار طور کی مختلف ہدایت رکھی گئی ہیں جن میں سے بعض ہدایتیں ست جگ کے مناسب حال اور بعض ہدایتیں کل جگ کے مناسب حال ہیں اور ہندو اگرچہ مختلف فرقے ہیں مگر وہ سب کے سب توحید باری پر اتفاق رکھتے ہیں اور عالم کو مخلوق سمجھتے ہیں اور روز حشر کے قائل ہیں اور معارف اور مکاشفات میں یدطولیٰ رکھتے ہیں اور اُن کی بُت پرستی حقیقت میں بُت پرستی نہیں ہے بلکہ وہ بعض ملائکہ کو جو بامرالٰہی عالم کون و فساد میں تصرف رکھتے ہیں یا بعض کاملین کی ارواح کو جن کا تصرف بعد گذر جانے کے اس نشہ دنیا سے باقی ہے یا بعض زندوں کو جو اُن کے زعم میں خضر کی طرح ہمیشہ زندہ رہتے ہیں قبلہ توجہ کر لیتے ہیں۔ یعنی صوفیہ اسلامیہ کی طرح اُن کی خیالی صورتوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جیسے صوفیہ اسلامیہ اپنے پیر کی صورت کا تصور کرتے ہیں اور اُس سے فیض اُٹھاتے ہیں مگر صرف اتنا فرق ہے کہ اسلامی صوقی طاہر میں کوئی تصویر شیخ کی اپنے آگے نہیں رکھتے اور یہ لوگ رکھ لیتے ہیں۔ سو اُن کی یہ صورت عبادت کفّار عرب کی بُت پرتسی سے مشابہ نہیں ہے کیونکہ کفّار عرب اپنے بتوں کو متصرف و مؤثر بالذات مانتے تھے اور اُن کو خدائے زمین سمجھتے تھے اور خدا تعالیٰ کو خدائے آسمان سمجھتے تھے۔ اسی طرح ہندو لوگ جو اُن تصویروں کو سجدہ کرتے ہیں وہ سجدہ بھی سجدہ عبادت نہیں بلکہ سجدہ تحیت ہے۔ اُن کی شرح میں باپ اور پیر اور اُستاد کے لئے بجائے سلام کے بھی سجدہ مرسوم اور معمول ہے۔ انتی۔ اب مرزا صاحب نے اپنے اس بیان میں جس قدر غلطیاں کی ہیں اور دھوکے کھائے ہیں اور خلاف واقعہ لکھا ہے ہم کس کس کی اطلاح کریں۔