اس کی زندگی میں دل لگائے گا اور کس امید پر عبادت اور زُہد اور رجوع الی اللہ اختیار کرے گا اور پھر زیادہ تر مشکل بات (جس کو عاجز بندہ اپنے ضعف اور کمزور حالت پر نظر کرنے سے بخوبی جانتا ہے) یہ ہے کہ بعد چوراسی لاکھ جون بھگتنے کے پھر بھی ایسی پاک اور مصفا حالت کہ جس میں ایک ذرا حظ یا غفلت سرزد نہ ہو اس کو نصیب نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے قصور اور حظ سے محفوظ نہیں رہ سکتا اور ادنیٰ سے ادنیٰ بات جو بشر کے لئے لازم غیر منفک کی طرح ہے ، غفلت ہے جو انسانی شرشت کا پہلا گناہ اور سب گناہوں کی جڑ ہے مگر دنیا میں کوئی ایسا آدمی کہاں اور کدھر ہے جو ایک طرفۃ العین کے لئے بھی اپنے مولیٰ کے ذکر سے غافل نہیں رہ سکتا اور ایک لحظہ کے لئے قبض کی حالت اُس پر طاری نہیں ہوتی۔ ماسوا اس کے جہاں تک ہم انسانوں کی عام حالتوں پر نظر ڈالتے ہیں اور اُن کے سلسلہ زندگی کو اوّل سے آخر تکر دیکھتے ہیں تو ہم پر صاف کھل جاتا ہے کہ کوئی انسان خاص کر اپنے بلوغ کے ابتدائی زمانہ میں کس قدر خاص یا ذلت یا لغزش یا غفلت یا لہوو لعب سے خالی نہیں رہ سکتا اور نہ جب کہ نعماء الٰہی اس پر وارد ہوئے ہیں اُن کا پورا پورا شکر کر سکتاہے اور یہ ایسی صاف اور واشگاف صداقت ہے جو خود ہمارے کوائف زندگی اور واقعات عمری اس پر شہادت دے رہے ہیں اور موجودات کا ہر یک ذرّہ اور قدرت کا ہر یک قانون اس کی تصدیق کر رہا ہے اور ہماری روحیں پکار پکار کر ہمیں بھی کہتی ہیں کہ ہم بوجہ مخلوق اور ضعیف اور کمزور اور ممنون منت ہونے کے ایسی فتح عظیم اپنے خالق اور محسن حقیقی اور مربی بے علت پر ہرگز حاصل نہیں کر سکتے کہ جو اُس کو یہ کہہ سکیں کہ جو کچھ تیرے حقوق ہمارے گردن پر تھے وہ سب ہم نے جیسا کہ چاہئے ادا کر دیئے ہیں اور اب ہم تیرے حساب سے فارغ اور تیرے مطالبہ سے امن میں ہیں اور جب ہم لوگ ایسی فارغ خطی حاصل نہیں کر سکتے تو پھر صاف ظاہر ہے کہ اگر خداوندکریم ہمارے گناہوں پر ہمیشہ ہم کو سزا دیتا رہے اور درگذر اور عفو کسی حالت پر نہ کرے تو پھر ہرگز ممکن نہیں کہ ہم کسی زمانہ میں نجات کا منہ دیکھ سکیں کیونکہ جب گناہ غیر محدود ٹھہرے تو پھر سزا بھی درصورت لازمی اور ضروری ہونے کے غیر محدود اور دائمی چاہئے۔ سو یہ اصول نہایت منحوس اور نامبارک ہے اور اگر یہی بات سچ ہے تو انسان غایت درجہ کا بدبخت اور بے نصیب ہوگا جس کے لئے