سخت دل پرمیشر کا ہمیشہ ارادہ ہے کہ جب تک وہ بکلّی گناہوں کے صادر ہونے سے (کہ جو انسان کی سرشت سے لازم ہوئے ہیں) محفوظ نہ رہے تب تک مختلف جونوں کا تختہ مشق رہے گا اب دیکھنا چاہئے کہ اس کے مقابل پر یہ اصول قرآن شریف کا کیسا بابرکت اور پیارا اور تسلی بخش اور انسانی فطرت کے لئے ضروری اور مناسب حال ہے کہ گناہ کا تدارک توبہ اور استغفار سے ہو سکتا ہے اور بدیوں کی تلافی نیکیوں سے ممکن ہے۔ یہ ایسا ضروری اور لابدی اصول ہے کہ انسان کی مغفرت اور نجات یابی بجز اس کے ممکن ہی نہیں۔ خیال کرنا چاہئے کہ اکثر تمام انسانوں کا یہی حال ہوا کرتا ہے کہ وہ اپنی ابتدائی عمروں میں کسی قدر غفلت اور لہو و لعب یا نالائق باتوں اور بدچلنیوں میں رہ کر پھر کسی نیک صحبت کی برکت سے یا کسی واعظ اور ناصح کے سمجھانے سے یا اپنے ہی انصاف دلی کے جوش سے اس بات کے مشتاق ہو جایا کرتے ہیں کہ اب خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور بُرے کاموں اور خراب راہوں کو چھوڑ دیں۔
اب سوچنا چاہئے کہ اگر ایسے طالب حق کے لئے جناب الٰہی میں باریابی کا کوئی سبیل نہیں اور تو یہ منظور ہی اور استغفار قبول ہی نہیں تو پھر وہ بیچارہ اپنی آخری بہبودی کیلئے اگر کچھ کوشش بھی کرے تو کیا کرے اور کیونکر کرے اور کدھر جائے۔ ممکن ہے کہ وہ ایسے پرمیشر سے سخت نومید اور شکستہ دل ہو کر اور اُس کی رحمت سے بکلّی ہاتھ دھو کر پھر اپنے گناہوں کی طرف رجعت … کرے اور خوب دل کھول کر ہر قسم کے گناہ اور بدمعاشی سے تمتع اور حظ اُٹھاوے۔ غرض یہ ایسا اصول ہے کہ نہ بندہ اُس سے اپنی نجات تک پہنچ سکتا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کی رحمت اس سے قائم رہتی ہے کیا یہ بات اللہ تعالیٰ کی عادت کریمانہ کے موافق ہے کہ وہ انسان کی کامیابی میں اس قدر مشکلات ڈالے اور اس کی نجات کو معلق یا محال کر کے اس کے گناہ کو ہمیشہ یاد رکھے۔ مگر اس کے رجوع محبت اور توبہ اور استغفار کا ایک ذرا قدر نہ کرے اور چوراسی لاکھ جون میں سے ایک جون کی تخفیف کرنے سے بھی دریغ کرتا رہے کیا ایسے پر کوئی امید ہو سکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔
پھر تیسرا اصول وید کا جو عقل کے برخلاف ہے یہ ہے کہ نجات ابدی کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ لوگ کچھ مدت محدود تک نجات پا کر پھر مکی خانہ سے ناکردہ گناہ باہر نکالے جاتے ہیں اور پرمیشر ہرگز قادر نہیں کہ اُن کو ہمیشہ کے لئے نجات دے سکے۔ اب جو لوگ عشق الٰہی کی ایک چنگاری بھی اپنے اندر رھتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں