سمجھ ہی نہیں سکتے لیکن جن لوگوں کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ہوتا اور ان کی شامتِ اعمال ان پر کوئی بلا لاتی ہے تو وہ اور بھی گمراہ ہوتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے فرمایا ہے:۔
فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزَادَھُمْ اللّٰہ ُ مَرَضاً (البقرۃ:۱۱)
پس ہمیشہ ڈرتے رہو اور خدا تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو۔ تاایسا نہ ہو کہ تم خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے والوں میں ہوجائو۔ جو شخص خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت میں داخل ہوتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے اس کو ایسی توفیق عطا کی۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ ایک قوم کو فنا کر کے دوسری پیدا کردے۔ یہ زمانہ لوطؑ اور نوحؑ کے زمانہ سے ملتا ہے۔ بجائے اس کے کہ کوئی شدید عذاب آتا اور دنیا کا خاتمہ کردیتا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم سے اصلاح چاہی ہے اور اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔
بدیوں کو دور کرنے کے لئے مرسلین کا آنا ضروری ہے:۔
یہ بھی مت سمجھو کہ ہم خود ہی بدیوں سے باز آسکتے تھے۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے عیسائی اور یہودی موجود تھے اور توریت اور انجیل بھی موجود تھی۔ پھر تم خود ہی بتائو کہ کیا وہ لوگ فسق وفجود اورہر قسم کے جرائم اور معاصی سے باز آگئے تھے ؟نہیں بلکہ باوجود ان کتابوں کے موجود ہونے کے بھی وہ حدود اللہ سے نکل گئے تھے۔ سنت اللہ یہی ہے کہ جب زمین فسق وفجور سے بھر جاتی ہے تو اس کے روکنے والی قوت آسمان سے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو آسمان سے بھیج دیتا ہے جس کے ذریعہ لوگوں کو توبہ کی توفیق ملتی ہے۔ جو یہودی آنحضرت ﷺ کے وقت موجود تھے وہ ہزار سال سے ویسے ہی رہے تھے لیکن جو آنحضرت ﷺ کی جماعت میں داخل ہوگئے وہ فرشتے بن گئے۔ اگر انسان خود ہی کرسکتا تو بگڑتا ہی کیوں ؟ اور پھر نبیوں کی ضرورت ہی کیا تھی؟ خدا تعالیٰ کے مرسل اسی غرض کے لئے آیا کرتے ہیں اور ضرور آتے ہیں۔ ہاں سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ جب خزاں کا وقت آتا ہے تو درختوں کے پتے گر جاتے ہیں نہ پھل ہوتا ہے نہ پھول نہ خوشبو بلکہ خوشبو کی جگہ بدبو ہوتی ہے اور خوبصورتی کی بجائے بدصورتی ہوتی ہے۔لیکن پھر یک دفعہ جب بہار کا موسم آتا ہے تو پھر تدریجی طورپر سب کچھ بحال ہوجاتا ہے۔ یہی سلسلہ روحانی عالم میں ہے ۔ جب دیکھوکہ ایمان اور اعمال صالحہ میں خزاں کا دور شروع ہے اور ہر طرف پھل ‘ پھول اور پتے تک گر رہے ہیں تب سمجھو کہ بہار آئی۔ انبیاء علیہم السلام کا وقت بہار سے مشابہ ہے۔ میں نے سب کتابیں دیکھی ہیں۔ توریت اور انجیل کو خوب پڑھا ہے مگر میں حلفاً کہتا ہوں کہ جو ثبوت قرآن مجید نے دیا ہے۔ ہرگز ہرگز کسی دوسری کتاب نے نہیں دیا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جس قدر قصے شریروں اور بدکاروں کے بیان کئے ہیں ساتھ ہی یہ بیان کیا کہ یہ اس وقت موجود ہیں۔ اس سے غرض کیا تھی؟ اصل غرض یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ جب ایک یا دو قسم کی بدیوں