کے دور کرنے کے لیے رسولوں کا آنا ضروری تھا پھر جہاں اس قدر بدیاں پھیل رہی ہیں اور تمام شرارتیں جمع ہوگئی ہیں۔ وہاں کیوں ضروری نہیں؟ اس لیے آنحضرت ﷺ کی بعثت حق تھی اور عین ضرورت کے وقت تھی۔ یہ ان لوگوں پر حجت ہے جو آنحضرت ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں۔ وہ سوچیں کہ جو بداعمالیاں کبھی کسی زمانہ میں پیدا ہوئیں اور ان کے لیے رسول آیا۔ پھر جب ان کا مجموعہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہوگیا یہاں تک کہ کہنا پڑا کہ بحروبر میں فساد پیدا ہوگیا۔ اس زمانہ میں ایسی ہوا چلی ہوئی تھی کہ سب بگڑ گئے تھے ۔۱؎ آریہ ورت کے لیے پنڈت دیانند نے شہادت دی ہے کہ وہ بھی بگڑا ہوا تھا۔ جگن ناتھ اور سومنات وغیرہ بت خانے اسی وقت کے ہیں۔ گویا اتنی بڑی خزاں تھی کہ اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ اوروہ وقت بالطبع چاہتا تھا کہ ایک عظیم الشان مصلح پیدا ہو۔ جو ان تمام فسادوں کی اصلاح کرے۔ چنانچہ اس وقت کے حسب حال آپؐ پیدا ہوئے ۔ یہ بڑا نشان ہے۔ پھر یہ دیکھنا چاہیئے کہ آپ نے آکر کیا کیا؟ اس وقت جو حالت ملک اور قوم بلکہ دنیاکی ہو رہی تھی اس کی تفصیل کی حاجت نہیں۔ سب شہادت دیتے ہیں اور خود قرآن مجید نے شہادت دی ہے وہ ان میں شائع ہوتا تھا اگر کوئی امر جوان کے حالات کے متعلق اس میں بیان کیا گیا ہے خلاف واقعہ ہوتا تو وہ شور مچا دیتے کہ جھوٹ کہا ہے لیکن کسی کو انکار کی گنجائش ہی نہ تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا وقت کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے بہت بڑی خزاں کا وقت تھا اور اسی کے مقابل میں بہار بھی وہ آئی کہ اس کی نظیر نہ پہلے ملتی ہے اور نہ آئندہ ہوگی ۔ اس لیے کہ آئندہ تو اسی بہار کا سماں ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قریب کا زمانہ تھا۔ اور وہ بھی ایک بہار کا وقت تھا مگر اس وقت جو ترقی یا تبدیلی ہوئی وہ اس سے ہی ظاہر ہے کہ آپ نے بارہ آدمی تیار کئے جو بارہ حواری مشہور ہیں ۔ ان میں سے ایک نے جو بڑا مخلص سمجھا جاتا تھا۔ تیس روپے لے کر گرفتار کرادیا اور دوسرے نے جس کو بہشت کی کنجیاں دی گئی تھیں تین مرتبہ لعنت کی اور باقی بھاگ گئے مگر اس کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ نے جو جماعت تیار کی وہ صدق واخلاص میں ایسی وفادار تھی کہ اس نے بھیڑ بکری کی طرح سرکٹوا دئیے۔ اس سے بڑھ کر حیرت انگیز تبدیلی کیا ہوگی وہ جو ہر قسم کے عیبوں اور معاصی میں مصروف رہنے والی قوم تھی۔ جب آنحضرت ﷺ کے دامن کے نیچے آئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ مخلصانہ پیوند کیا کہ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے اللہ ہی سے محبت کرتے تھے۔
یہ دو نشان ایسے زیردست ہیں کہ جو شخص تعصب سے خالی ہو کر ان پر تدبر کرے گا اور ضرور کرنا