نہیں اتنی ہی بات نہیں بلکہ اس سے وہ سب محبوب مراد ہیں جو انسان اپنے لیے بنا لیتا ہے ایسے لوگ دیکھے گئے ہیں کہ جب انہیں ذرا بھی تکلیف یا مصیبت پہنچے یا کوئی اولاد مر جاوے تو فوراً خدا تعالیٰ سے تعلق توڑ بیٹھتے ہیں اور شکوہ اور شکایت کرنے لگتے ہیں۔ یہ سخت مشرک اور اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں۔ پس تم ایسے مت بنو اور اس قسم کے خیالات کو دل سے نکال دو اور اس کی ترکیب یہی ہے کہ نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ اپنی نمازوں میں دُعائیں کرو اور اس کی توفیق چاہو۔ میں کھول کر کہتاہوں کہ اگر کوئی شخص میری بیعت اس لیے کرتاہے کہ اُسے بیٹا ملے یا فلاں عہدہ ملے یعنی شرطی باتوں پر بیعت کرتاہے تو وہ آج نہیں۔ کل نہیں۔ ابھی الگ ہو جاوے اور چلا جاوے ۔ مجھے ایسے آدمیوں کی ضرورت نہیں اور نہ خدا کو ان کی پروا ہے۔ یقینا سمجھو۔ اس دُنیا کے بعد ایک اور جہان ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ اس کے لیے تمہیں اپنے آپ کو تیا ر کرنا چاہیئے ۔ یہ دُنیا اور اس کی شوکتیں یہاں ہی ختم ہو جاتی ہیں مگر اس کی نعمتوں اور خوشیوں کا کوئی بھی انتہا نہیں ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جو شخص ان سب باتوں سے الگ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف آتا ہے وہی مومن ہے اور جب ایک شخص خدا کا ہو جاتا ہے تو پھر یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ اُسے چھوڑ دے ۔ یہ مت سمجھو کہ خدا ظالم ہے ۔ جو شخص خدا تعالیٰ کے لیے کچھ کھوتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ پالیتاہے ۔ اگر تم خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر لو اور اولاد کی خواہش نہ کرو تو یقینا اور ضروری سمجھو کہ اولاد مل جاوے۱؎گی ۔ اور اگر مال کی خواہش نہ ہوتو وہ ضرور دیدے گا تم دو کوششیں مت کرو کیونکہ ایک دقت دو کوششیں نہیں ہو سکتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو پانے کی سعی کرو۔ میں پھر کہتا ہوں کہ اسلام کی اصل جڑ توحید ہے یعنی خدا تعالیٰ کے سوا کوئی چیز انسان کے اندر نہ ہواور خدا اور اس کے رسولوں پر طعن کرنے والا نہ ہو خواہ کوی بلایا مصیبت اس پر آئے۔ کوئی دُکھ یا تکلیف یہ اُٹھائے ۔ مگر اس کے منہ سے شکایت نہ نکلے بلا جو انسان پر آتی ہے وہ اس کے نفس کی وجہ سے آتی ہے خدا تعالیٰ ظلم نہیں کرتا۔ ہاں کبھی کبھی صادقوں پر بھی بلا آتی ہے مگر دوسرے لوگ اُسے بلا سمجھتے ہیں درحقیقت وہ بلا نہیں ہوتی وہ ایلام برنگ انعام ہوتاہے ۔ اس سے خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کا تعلق بڑھتا ہے اور ان کا مقام بلند ہوتا ہے اس کو دوسرے لوگ