وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے اہل کو بچالوں گا لیکن جب ان کا بیٹا ہلاک ہونے لگا تو نوح علیہ السلام نے دُعا کی اور اس امر کو پیش کیا۔ خدا تعالیٰ نے اس کا کیا جواب دیا ؟ یہی کہ تو جاہل مت بن وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے اعمال صالح نہیں ۔ گویا وہ چھپا ہوا مرتد تھا۔ پھر جب انہیں اپنے ایسے بیٹے کے لئے دُعا کرنے پر یہ جواب ملا تو اور کون ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ سے تو سچا تعلق پیدا نہیں کرتا اور اپنے اعمال اور حال میں اصلاح نہیں کرتا اور چاہتاہے کہ اس کے ساتھ وہ معاملہ ہو جو اس کے مخلص اور وفادار بندوں سے ہوتاہے ۔ یہ سخت نادانی اور غلطی ہے۔
سچے خدا پر ست بنو:۔
اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا۔
میں جانتا ہوں۔ بہت سے لوگ ہیں جو چھپے ہوئے مرتد ہیں ۔ بہت سے ایسے ہیں جو باوجود اس کے کہ وہ بیعت میں داخل ہیں اور پھر مجھے خط لکھتے ہیں کہ فلاں شخص نے مجھے کہا کہ جب تک تیرے گھر بیٹا نہ ہو وہ کیونکر سچا ہو سکتاہے؟ یہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ کیا خدا نے مجھے اس لیے بھیجا ہے کہ میں لوگوں کو بیٹے دوں؟ کسی کے گھر بیٹا ہو یا بیٹی مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں اور نہ میں اس لیے بھیجا گیا ہوں۔ میں تو اس لیے آیا ہوں کہ تالوگوں کے ایمان درست ہوں۔ پس جو لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے ایمان درست ہوں اور خدا تعالیٰ سے ان کا سچا تعلق پیدا ہوان کو میرے ساتھ تعلق رکھنا چاہیئے خواہ بیٹے مریں یا جئیں۱؎ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ( الانفال : ۲۹)
جو لوگ ایسے خطوط لکھتے ہیں یا اپنے دل میں ایسے خیالات رکھتے ہیں وہ یاد رکھیں اور خوب یاد رکھیں کہ وہ مجھ پر نہیں خدا تعالیٰ پر اعتراض کرتے ہیں۔ یقینا سمجھو کہ میرے پیچھے آنا ہے اور سچے مسلمان بننا ہے تو پہلے بیٹوں کو مار لو۔ بابا فرید ؒ کا مقولہ بہت صحیح ہے کہ جب کوئی بیٹا مر جاتا تو لوگوں سے کہتے کہ ایک کتورہ ( کُتّی کا بچہ ) مرگیا ہے اس کو دفن کردو۔
پس کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا نہیں کر سکتا جب تک باوجود اولاد کے بے اولاد نہ ہو اور باوجود مال کے دل میں مفلس ومحتاج نہ ہو اور باوجود دوستوں کے لئے یارو مدد گار نہ ہو۔ یہ ایک مشکل مقام ہے جو انسان کو حاصل کرنا چاہیئے ۔ اسی مقام پر پہنچ کر وہ سچا خدا پرست بنتاہے۔ یہ جو قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ میں شرک نہیں بخشوں گا۔ اس کا مفہوم نادانوں نے اتناہی سمجھ لیا ہے کہ اس سے بت پرستی مراد ہے ۔