بلکہ ہر کوئی اس کو اس طرح پر پڑھ کر اور آزما کر دیکھ لے۔۴؎اس نسخہ کو ہمیشہ یاد رکھو اور اس سے فائدہ اُٹھا کر جب کوئی دُکھ یا مصیبت پیش آوے تو فوراً نماز میں کھڑے ہو جائو اور جو مصائب اور مشکلات ہوں ان کو کھول کھول کر اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرو کیونکہ یقینا خدا ہے اور وہی ہے جو ہر قسم کی مشکلات اور مصائب سے انسان کو نکالتا ہے وہ پکارنے والے کی پکار کو سنتاہے ۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو مدد گار ہو سکے۔ بہت ہی ناقص ہیں وہ لوگ کہ جب اُن کو مشکلات پیش آتی ہیں تو وہ وکیل ، طبیب یا اور لوگوں کی طرف تو رجوع کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا خانہ بالکل خالی چھوڑ دیتے ہیں۔ مومن وہ ہے جو سب سے اول خدا تعالیٰ کی طرف دوڑے۔ یہ امر بھی یادرکھنا چاہیئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ ہو اور رجوع نہ کرو تو اس سے اس کی ذات میں کوئی نقص پید انہیں ہوسکتا اور وہ تمہاری کچھ بھی پروا نہیں رکھتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے :۔ قُلْ مَا یَعْبَؤُبِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآ ؤُکُمْْ (الفرقان :۷۸) یعنی ان کو کہدو کہ میرا رب تمہاری پروا کیا رکھتاہے اگر تم سچے دل سے اس کی عبادت نہ کرو۔ جیسا کہ وہ رحیم و کریم ہے ویسا ہی وہ غنی بے نیاز بھی ہے ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ طاعون نے کیا کیا اور زلزلوں نے کیا دکھایا ؟ گھروں کے گھر اور شہروں کے شہر تباہ ہوگئے اور ہزاروں لاکھوں خاندان ہمیشہ کے لئے مٹ گئے مگر اللہ تعالیٰ کو اس کی کیا پروا ۔ باوجود اس کے کہ وہ بہت ہی رحم کرنے والا ہے مگر بے نیاز بھی ہے ۔ نوح کے وقت، لوط کے وقت ، موسیٰؑ کے وقت کیا ہوا؟ کیا جو قومیں اور بستیاں اس وقت ہلاک ہوئیں وہ انسان نہ تھے؟ وہ بھی انسان تھے اور تم بھی انسان ہو لیکن جب اُس نے دیکھا کہ وہ باز نہیں آتے اور حق کا انکار کرتے ہیں تو آخر خد ا تعالیٰ کا قہر نازل ہوا اور آن کی آن میں انہیں مٹادیا۔ مگر یاد رکھو اور خوب یاد رکھو۔ صرف اتنی ہی بات کہ ہم نے مان لیاہے کافی نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ مجرد اقرار نہیں چاہتا ۔ وہ چاہتا ہے کہ جو اقرار تم نے کیا ہے اسے کر کے دکھا دو۔ بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ فلاں شخص بیعت میں داخل تھا پھر وہ طاعون سے کیوں مر گیا؟ میں کہتاہوں کہ میں اس کا ذمہ دار ہوں کہ کیوں مرگیا؟ اپنے اندر کے طاعون سے مرگیا۔ اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز ظلام نہیں ہے وہ اپنے سچے بندوں کو محفوظ رکھتاہے اور ان میں اور ان کے غیروں میں فرق رکھدیتا ہے ۔ مجھے ان لوگوں پر بہت ہی تعجب آتا ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے بیعت کی ہوئی تھی ہم پر یہ مصیبت کیوں آئی؟ وہ نادان نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ نری بیعت اور زبانی اقرار کیا بنا سکتا ہے ؟ جب تک دل صاف نہ ہو اور اللہ تعالیٰ سے سچا پیوند قائم نہ ہو۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نوح علیہ السلام سے