پھر بعد اس کے جب وہ عدالت میں حاضر ہوا اور بیانات ہونے کے بعد اس پر فرو قرار داد جرم لگ گئی اور شہادت گذر گئی تو اس کی مصیبت اور کرب پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ۔ یہ گویا عصر کا وقت ہے۔ کیونکہ عصر کی نماز کا وہ وقت ہے جب سورج کی روشنی بہت ہی کم ہو جاوے۔ یہ عصر کا وقت اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس کی عزت و توقیر بہت گھٹ گئی۱؎ور ابوہ مجرم قرار پاگیا ۔ اس کے بعد مغرب کا وقت آتاہے ۔ یہ وہ وقت ہے جب آفتاب غروب ہو جاتاہے اور یہ اس وقت سے مشابہ ہے جب حاکم نے اپنا آخری حکم اس کے لئے سُنا دیا اور عشاء کا وقت اس سے مشابہ ہے کہ جب وہ جیل چلا جاوے۲؎اور پھر فجر کا وقت ہے جب اس کی رہائی ہو جاوے۔۳؎؎ان حالات کے ماتحت ایسے انسان کا دردو سوزش ہر آن بڑھتی جاوے گی۔ یہاں تک کہ آخر اس کی سوزش و اضطراب اس کے لئے وہ وقت لے آوے کہ وہ نجات پا جاوے۔
اور یہ جو پہلے میں نے بیان کیا ہے قیام ، رکوع اور سجود کے متعلق ، اس میں انسانی تضرع کی ہیئت کا نقشہ دکھایا گیا ہے ۔ پہلے قیام کرتا ہے ۔ جب اس پر ترقی کرتا ہے تو پھر رکوع کرتا ہے اور جب بالکل فنا ہو جاتاہے تو پھر سجدہ میں گر پڑتا ہے ۔ میں جو کچھ کہتاہوں صرف تقلید اور رسم کے طور پر نہیں بلکہ اپنے تجربہ سے کہتاہوں