جانے والی کوئی چیز نہیں۔‘‘
جب انسان قیام کرتا ہے تو وہ ایک ادب کا طریق اختیار کرتا ہے۔ ایک غلام جب اپنے آقا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ دست بستہ کھڑا ہوتا ہے۔ پھر رکوع بھی ادب ہے جو قیام سے بڑھ کر ہے اور سجدہ ادب کا انتہائی مقام ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو فنا کی حالت میں ڈال دیتا ہے اس وقت سجدہ میں گر پڑتا ہے۔ افسوس ان نادانوں اور دنیا پرستوں پر جو نماز کی ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور رکوع سجود پر اعتراض کرتے ہیں ۔ یہ تو کمال درجہ کی خوبی کی باتیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان اس عالم سے حصہ نہ رکھتا ہو جہاں سے نماز آئی ہے۔۱؎
نمازایسی چیز ہے جو جامع حسنات ہے اور دافع سیئات ہے ۔ میں نے پہلے بھی کئی مرتبہ بیان کیا ہے کہ نماز کے جو پانچ وقت مقرر کئے ہیں اس میں ایک حقیقت اور حکمت ہے۔ نماز اس لئے ہے کہ جس عذاب شدید میں پڑنے والا مبتلا ہے وہ اس سے نجات پالے وے۔ اوقات نماز کے لئے لکھا ہے کہ وہ زوال کے وقت سے شروع ہوتی ہے ۔ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان غنی ہوتا ہے تو وہ طاغی ہو جاتاہے اور حدود اللہ سے نکل جاتاہے لیکن جب اس کو کوئی دُکھ اور درد پہنچے تو پھر یہ فطرتا دوسرے کی مدد چاہتا ہے اور اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ پس جب اس پر ابتداء مصیبت ہو تو اسی وقت سے گویا نماز شروع ہو جاتی ہے مثلاً ایک شخص پر غیر متوقع گورنمنٹ کی طرف سے وارنٹ گرفتاری جاری ہوگیا کہ
فلاں امر کے متعلق تم اپنا جواب دو۔ یہ پہلا مرحلہ ہے جو مصیبت کا آغاز ہوا۔ اور اس کے امن و سکون میں زوال شروع ہوگیا۔ یہ وقت ظہر کی نماز سے مشابہ ہے ۔۲؎