غرض وہ اندر جو گناہوں سے بھرا ہوا ہے اور جو خدا تعالیٰ کی معرفت اور قرب سے دور جا پڑا ہے اس کو پاک کرنے اور دور سے قریب کرنے کے لئے نماز ہے۔ اس ذریعہ سے ان بدیوں کو دور کیا جاتا ہے اور اس کی بجائے پاک جذبات بھر دئیے جاتے ہیں۔ یہی سر ہے جو کہا گیا ہے کہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے یا نماز فحشاء منکر سے روکتی ہے۔
پھر نماز کیا ہے؟ یہ ایک دعا ہے جس میں پورا درد اور سوزش ہو۔ اسی لیے اس کا نام صلوٰۃ ہے۔ کیوں کہ سوزش اور فرقت اور درد سے طلب کیاجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بد ارادوں اور برے جذبات کو اندر سے دور کرے اور پاک محبت اس کی جگہ اپنے فیض عام کے ماتحت پیدا کردے۔
صلوٰۃ کا لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ نرے الفاظ اور دعا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ایک سوزش‘ رقت اور درد ساتھ ہو۔ خدا تعالیٰ کسی دعا کو نہیں سنتا جب تک دعا کرنے والاموت تک نہ پہنچ جاوے۔ دعا مانگنا ایک مشکل امر ہے اور لوگ اس کی حقیقت سے محض ناواقف ہیں۔ بہت لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہم نے فلاں وقت امر کے لیے دعا کی تھی مگر اس کا اثر نہ ہوا اور اس طرح پر وہ خدا تعالیٰ سے بدظنی کرتے ہیں اور مایوس ہو کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ جب تک دعا کے لوازم ساتھ نہ ہوں وہ دعا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
دعا کے لوازم میں سے یہ ہے کہ دل پگھل جاوے اور روح پانی کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرے اور ایک کرب اور اضطراب اس میں پید اہو اور ساتھ ہی انسان بے صبر اور جلد باز نہ ہو بلکہ صبر اور استقامت کے ساتھ دعا میں لگا رہے پھر توقع کی جاتی ہے کہ وہ دعا قبول ہوگی۔
نماز بڑی اعلیٰ درجہ کی دعا ہے مگر افسوس لوگ اس کی قدر نہیں جانتے اور اس کی حقیقت صرف اتنی ہی سمجھتے ہیں کہ رسمی طور پر قیام رکوع سجود کرلیا اور چند فقرے طوطے کی طرح رٹ لیے خواہ اسے سمجھیں یا نہ سمجھیں ایک اور افسوسناک امر پیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے ہی مسلمان نماز کی حقیقت سے ناواقف تھے اور اس پر توجہ نہیں کرتے تھے ۔اس پر بہت سے فرقے ایسے پیدا ہوگئے جنہوں نے نماز کی پابندیوں کو اُڑا کر اس کی جگہ چند وظیفے اور ورد قرار دے دئیے ۔ کوئی نوشاہی ہے۔ کوئی چشتی ہے کوئی کچھ ہے کوئی کچھ ۔ یہ لوگ اندرونی طور پر اسلام اور احکام الٰہی پر حملہ کرتے ہیں اور شریعت کی پابندیوں کو توڑ کر ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں۔ یقینا یادرکھو کہ ہمیں اور ہر ایک طالب حق کو نماز ایسی نعمت کے ہوتے ہوئے کسی اور بدعت کی ضرورت نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ جب کسی تکلیف یا ابتلا کو دیکھتے تو فوراً نماز میں کھڑے ہوجاتے تھے اور ہمارا اپنا اور ان راستبازوں کا جو پہلے ہو گذرے ہیں۔ ان سب کا تجربہ ہے کہ ’’نماز سے بڑھ کر خدا کی طرف لے