میں بار بار کہتا ہوں کہ اس امر کو ہمیشہ یادرکھنا چاہیئے کہ جب تک یہ مخفی معبود موجود ہوں ہرگز توقع نہ کرو تم اس مقام کو حاصل کر لو گے جو ایک سچے موحد کو ملتاہے جیسے جب تک چوہے زمین میں ہیں مت خیال کرو کہ طاعون سے محفوظ ہو۔ اسی طرح پر جب تک یہ چوہے اندر ہیں اس وقت تک ایمان خطرہ میں ہے۲؎۔ جو کچھ میں کہتا ہوں اس کو خوب غور سے سُنو اور اس پر عمل کرنے کے لئے قدم اُٹھائو۔ میں نہیں جانتا کہ اس مجمع میں جو لوگ موجود ہیں آئندہ ان میں سے کون ہوگا اور کون نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے تکلیف اُٹھا کر اس وقت کچھ کہنا ضروری سمجھا ہے تا میں اپنا فرض ادا کردوں۔ پس کلمہ کے متعلق خلاصہ تقریر کا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا معبود اور محبوب اور مقصود ہو۔ اور یہ مقام اسی وقت ملے گا جب ہر قسم کی اندرونی بدیوں سے پاک ہو جائو گے اور اُن بتوں کو جو تمہارے دل میں ہیں نکال دو گے ۔ نماز کی حقیقت:۔ بعد اس کے سُنو۔ دوسرا امر نماز ہے جس کی پابندی کے لئے بار بار قرآن شریف میں کہا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھو کہ اسی قرآن مجید میں ان مصلیوں پر لعنت کی ہے جو نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اپنے بھائیوں سے بُخل کرتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں سے محفوظ کر دے ۔ انسان درد اور فرقت میں پڑا ہوا ہے اور چاہتاہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب اسے حاصل ہو۔ جس سے وہ اطمینان اور سکینت اسے ملے جو نجات کا نتیجہ ہے مگر یہ بات اپنی کسی چالاکی یاخوبی سے نہیں مل سکتی جب تک خدا نہ بُلاوے یہ جانہیں سکتا۔ جب تک وہ پاک نہ کرے یہ پاک نہیں ہو سکتا ۔ ۳؎؎بہتیرے لوگ اس پر گواہ ہیں کہ بارہا یہ جوش طبیعتوں میں پیدا ہوتاہے کہ فلاں گناہ دور ہو جاوے جس میں وہ مبتلا ہیں لیکن ہزار کوشش کریں دور نہیں ہوتا باوجود یکہ نفس لوامہ ملامت کرتاہے لیکن پھر بھی لغزش ہوجاتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ سے پاک کرنا خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے۔ اپنی طاقت سے کوئی نہیں ہو سکتا۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اس کے لیے سعی کرنا ضروری امر ہے۔