نفاق پڑتا ہے اور ہزاروں کُشت وخون ہو جاتے ہیں۔ ایک بھائی دوسرے کا حق مارتا ہے اور اسی طرح ہزاروں ہزار بدیاں اُن کے سبب سے ہوتی ہیں۔ ہر روز اور ہرآن ہوتی ہیں اور اسباب پر اس قدر بھروسہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کو محض ایک عضو معطل قرار دے رکھا ہے ۔ بہت ہی کم لوگ ہیں جنہوں نے توحید کے اصل مفہوم کو سمجھا ہے ۔ اور اگر انہیں کہا جاوے تو جھٹ کہدیتے ہیں کیا ہم مسلمان نہیں اور کلمہ نہیں پڑھتے ؟ مگر افسوس تو یہ ہے کہ انہوں نے اتنا ہی سمجھ لیا ہے کہ بس کلمہ منہ سے پڑھ دیا اور یہ کافی ہے ۔ میں یقینا کہتاہوں کہ اگر انسان کلمہ طیبہ کی حقیقت سے واقف ہو جاوے اور عملی طور پر اس پر کاربند ہو جاوے تو وہ بہت بڑی ترقی کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کا مشاہدہ کر سکتاہے ۔ یہ امر خوب سمجھ لو کہ میں جو اس مقام پر کھڑا ہوں۔ میں معمولی واعظ کی حیثیت سے نہیں کھڑا ہوں اور کوئی کہانی سُنانے کے لئے نہیں کھڑا ہوں بلکہ میں تو ادائے شہادت کے لئے کھڑا ہوں میں نے وہ پیغام جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے ، پہنچا دینا ہے ۔ اس امر کی مجھے پروا نہیں کہ کوئی اُسے سُنتا ہے یا نہیں سنتا اور مانتا ہے یا نہیں مانتا ۔ اس کا جواب تم خود دو گے۔ میں نے فرض ادا کرنا ہے ۔ میں جانتا ہوں بہت سے لوگ میری جماعت میں داخل تو ہیں اور وہ توحید کا اقرار بھی کرتے ہیں مگر میں افسوس سے کہتاہوں کہ وہ مانتے نہیں۔ جو شخص اپنے بھائی کا حق مارتا ہے یا خیانت کرتاہے یا دوسری قسم کی بدیوں سے باز نہیں آتا ۔ میں یقین نہیں کرتا کہ وہ توحید کا ماننے والا ہے ۱؎کیونکہ یہ ایک ایسی نعمت ہے کہ اس کو پاتے ہی انسان میں ایک خارق عادت تبدیلی ہو جاتی ہے ۔ اس میں بغض ، کینہ ، حسد، ریا وغیرہ کے بُت نہیں رہتے اور خدا تعالیٰ سے اس کا قرب ہوتاہے ۔ یہ تبدیلی اسی وقت ہوتی ہے اور اسی وقت وہ سچا موحد بنتا ہے ۔ جب یہ اندرونی بت تکبر ، خود پسندی ، ریا کاری ، کینہ وعداوت ، حسدو بخل ، نفاق و بد عہدی وغیرہ کے دور ہو جاویں۔ جب تک یہ بُت اندر ہی ہیں۔ اس وقت تک لا الہٰ الا اللہ کہنے میں کیونکر سچا ٹھہر سکتاہے ؟ کیونکہ اس میں توکل کی نفی مقصود ہے پس یہ پکی بات ہے کہ صرف منہ سے کہدینا کہ خدا کو وحدہ لاشریک مانتا ہوں کوئی نفع نہیں دے سکتا۔ ابھی منہ سے کلمہ پڑھتا ہے اور ابھی کوئی امر ذرا مخالفِ مزاج ہوا اور غصہ اور غضب کو خدا بنا لیا۔