یہ سچی بات ہے اور جلد سمجھ میں آجاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے سوا انسان کا کوئی محبوب اور مقصود نہ رہے تو پھر کوئی دُکھ یا تکلیف اُسے ستاہی نہیں سکتی۔ یہ وہ مقام ہے جو ابدال اور قطبوں کو ملتاہے ۔ آپ یہ خیال نہ کریں کہ ہم کب بُتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ ہم بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ یاد رکھو یہ تو ادنیٰ درجہ کی بات ہے کہ انسان بتوں کی پرستش نہ کرے ۔ ہندو لوگ جن کو حقائق کی کوئی خیر نہیں اب بتوں کی پرستش چھوڑ رہے ہیں ۔ معبود کا مفہوم اسی حد تک نہیں کہ انسان پر ستی یا بُت پرستی تک ہو اور بھی معبود ہیں اور یہی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ہوائے نفس اور ہو س بھی معبود ہیں جو شخص نفس پرستی کرتا ہے یا اپنی ہواوہوس کی اطاعت کر رہا ہے اور اس کیلئے مر رہا ہے وہ بھی بُت پرست اور مشرک ہے ۔ یہ لا نفی جنس ہی نہیں کرتا بلکہ ہر قسم کے معبودوں کی نفی کرتا ہے خواہ وہ انفسی ہوں یا آفاقی۔ خواہ وہ دل میں چھپے ہوئے بُت ہیں یاظاہری بُت ہیں۔ مثلاً ایک شخص بالکل اسباب ہی پر توکل کرتا ہے تو یہ بھی ایک قسم کا بُت ہے ۔ اس قسم کی بت پرستی تپ دق کی طرح ہوتی ہے جو اندر ہی ہلاک کر دیتاہے ۔ موٹی قسم کے بت تو جھٹ پٹ پہچانے جاتے ہیں اور اُن سے مخلصی حاصل کرنا بھی سہل ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ لاکھوں ہزاروں انسان اُن سے الگ ہوگئے اور ہورہے ہیں۔ یہ ملک جو ہندوئوں سے بھرا ہوا تھا کیا سب مسلمان ان میں سے ہی نہیں ہوئے ؟ پھرانہوں نے بُت پرستی کو چھوڑا یا نہیں ؟ اور خود ہندوئوں میں بھی ایسے فرقے نکلتے آتے ہیں جو اب بت پر ستی نہیں کرتے ۔ لیکن یہاں تک ہی بت پرستی کا مفہوم نہیں ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ موٹی بت پرستی چھوڑ دی ہے مگر ابھی تو ہزاروں بت انسان بغل میں لیے پھرتا ہے اور وہ لوگ بھی جو فلسفی اور منطقی کہلاتے ہیں۔ وہ بھی ان کو اندر سے نہیں نکال سکتے۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے سوا یہ کیڑے اندر سے نکل نہیں سکتے یہ بہت ہی باریک کیڑے ہیں اور سب سے زیادہ ضرور اور نقصان ان کا ہی ہے۔ جو لوگ جذباتِ نفسانی سے متاثر ہوکر اللہ تعالیٰ کے حقوق اور حدود سے باہر ہوجاتے ہیں اور اس طرح پر حقوق العباد کو بھی تلف کرتے ہیں وہ ایسے نہیں کہ پڑھے لکھے نہیں بلکہ ان میں ہزاروں کو مولوی فاضل اور عالم پائو گے اور بہت ہوں گے جو فقیہہ اور صوفی کہلاتے ہوں گے مگر باوجود ان باتوں کے وہ بھی ان امراض میں مبتلا نکلیں گے ان بتوں سے پر ہیز کرنا ہی تو بہادری ہے اور اُن کو شناخت کرنا ہی کمال دانائی اور دانشمندی ہے۔ یہی بت ہیں جن کی وجہ سے آپس میں