ہو اور درحقیقت دُنیا پر دین کو مقدم کر دے۔
یاد رکھو۔ مخلوق کو انسان دھوکہ دے سکتاہے اور لوگ یہ دیکھ کر کہ پنج وقت نماز پڑھتا ہے یا اور نیکی کے کام کرتاہے دھوکہ کھا سکتے ہیں ۔ مگر خدا تعالیٰ دھوکہ نہیں کھا سکتا۔ اس لیے اعمال میں ایک خاص اخلاص ہونا چاہیے یہی ایک چیز ہے جو اعمال میں صلاحیت اور خوبصورتی پیدا کرتی ہے ۔
اب یادرکھنا چاہیئے کہ کلمہ جو ہم ہر روز پڑھتے ہیں اس کے کیا معنے ہیں؟ کلمہ کے یہ معنی ہیں کہ انسان زبان سے اقرار کرتا ہے اور دل سے تصدیق کہ میرا معبود ، محبوب اور مقصود خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں۔ اِلٰہ کا لفظ محبوب اور اصل مقصود اور معبود کے لئے آتا ہے ۔ یہ کلمہ قرآن شریف کی ساری تعلیم کا خلاصہ ہے جو مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے ۔ چونکہ ایک بڑی اور مبسوط کتاب کا یا د کرنا آسان نہیں۔ اس لیے یہ کلمہ سکھا دیا گیا تاکہ ہر وقت انسان اسلامی تعلیم کے مغز کو مدنظر رکھے۴؎اور جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہ ہو جاوے ۔ سچ یہی ہے کہ نجات نہیں ۔ اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
مَنْ قَالَ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ
یعنی جس نے صدق دل سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو مان لیا وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ لوگ دھوکہ کھاتے ہیں۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ طوطے کی طرح لفظ کہہ دینے سے انسان جنت میں داخل ہو جاتاہے ۔ اگر اتنی ہی حقیقت اس کے اندر ہوتی تو پھر سب اعمال بے کار اور نکمے ہو جاتے اور شریعت ( معاذ اللہ ) لغو ٹھہرتی ۔ نہیں ! بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مفہوم جو اسی میں رکھا گیا ہے وہ عملی رنگ میں انسان کے دل میں داخل ہو جاوے۔ جب یہ بات پید اہو جاتی ہے تو ایسا انسان فی الحقیقت جنت میں داخل ہو جاتاہے۱؎۔ نہ صرف مرنے کے بعد بلکہ اسی زندگی میں وہ جنت میں ہوتاہے ۔