امور صاف بتلاتے ہیں کہ بابا نانک مسلمان تھے ۔ لیکن ان کا اس طرح سے ظاہر نہ ہونا بھی ایک بڑی مصلحت ۲؎ بدر اپنے اندر رکھتا ہے کیونکہ وہ اس طرح کھلے طور پر تمام تعلقات چھوڑ کر مسلمانوں میں شامل ہوتے تو اکیلے ہوتے ۔ برخلاف اس کے اب ایک بڑی جماعت کئی لاکھ آدمیوں کی ساتھ لے کر وہ مسلمان ہیں۔ ۱؎ بلاتاریخ بچوں اور عورتوں کے بارہ میں بعض نصائح :۔ جو حضور نے گھر میں بیان فرمائیں مرتبہ حضرت صاحبزادہ میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب ۔ منقول از رسالہ تشحیذ الاذہان ) پاکیزہ مزاح :۔ ایک روز کسی بیمار بچہ نے کسی سے کہانی کی فرمائش کی تو اس نے جواب دیا کہ ہم تو کہانی سُناناگناہ سمجھتے ہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: گُناہ نہیں ۔ کیونکہ یہ ثابت ہوتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی کبھی کبھی کوئی مذاق کی بات فرمایا کرتے تھے اور بچوں کو بہلانے کے لئے اس کو روا سمجھتے تھے ۔ جیسا کہ ایک بڑھیا عورت نے آپؐ سے دریافت کیا کہ حضرت کیا میں بھی جنت میں جائوں گی؟ فرمایا نہیں ۔ وہ بڑھیا یہ سن کر رونے لگی ۔ فرمایا ۔ روتی کیوں ہے؟ بہشت میں جوان داخل ہوں گے ۔ بوڑھے نہیں ہوں گے یعنی اس وقت سب جوان ہوں گے ۔ اسی طرح سے فرمایا کہ : ایک صحابی کی داڑھ میں درد تھا۔ وہ چھو ہارا کھاتاتھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوہارا نہ کھا کیونکہ تیری داڑھ میں درد ہے ۔ اس نے کہا کہ میں دوسری داڑھ سے کھاتا ہوں ۔ پھر فرمایا کہ : ایک بچہ کے ہاتھ سے ایک جانور جس کو حمیر کہتے ہیں چھوٹ گیا۔ وہ بچہ رونے لگا۔ اس بچہ کا نام عمیر تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عُمَیْرُ !مَافَعَلَتْ بِکَ حُمَیْرُ ؟ اے عمیر حمیر نے کیا کیا ؟