لڑکے کو قافیہ پسند آگیا۔ اس لئے چُپ ہو گیا۔
بچوں کو تنبیہہ کرنا ضروری ہے۔
ایک بچہ کی خبر لگی کہ اس نے کوئی شرارت کی ہے یعنی آگ سے کچھ جلا دیا ہے ۔
فرمایا:
بچوں کو تنبیہہ کر دینا بھی ضروری ہے ۔ اگر اس وقت ان کو شرارتوں سے منع نہ کیا جاوے تو بڑے ہو کر انجام اچھا نہیں ہوتا۔ بچپن میں اگر لڑکے کو کچھ تادیب کی جاوے تو وہ اس کو خوب یاد رہتی ہے کیونکہ اس وقت حافطہ قوی ہوتا ہے ۔۲؎
اظہار تشکر:۔
ایک دن حضور علیہ السلام بیمار تھے۔ ایک شخص کو کچھ چیزیں فواکہ کی قسم سے لانے کے لئے امرتسر بھیجا ۔ جب وہ آیا تو اس وقت حضرت کی طبیعت زیادہ ناساز تھی اس وقت ایک میوہ کی خواہش ہوئی جو اس شخص سے منگوایا تھا۔ لیکن وہ امرتسر سے نہیں لایا تھا۔ تھوڑی دیر ہوئی کہ قاضی نظیر حسین صاحب تحصیلدار تشریف لائے اور وہی پھل ساتھ لائے ۔ آپ نے فرمایا:
ہمارے گھر کے لوگوں کو ان چیزوں کے کھاتے وقت خیال کرنا چاہیئے کہ آج سے چھبیس یا ستائیس برس پہلے خدا تعالیٰ کا وعدہ شائع کیا گیا تھا کہ یَاْ تُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ وَیَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ ان سب لوگوں کے آنے سے پہلے خدا تعالیٰ نے اُن کے آنے کی خبر بھی دی۔ اور یہ بھی اطلاع دی تھی کہ اُن کے کھانے کے سامان بھی دور دور سے تیرے پاس لائوں گا۔ ان باتوں کو دیکھ کر کتنا بھروسہ کرنا چاہیئے کہ خود بخود بغیر ہماری کوششوں کے ہر قسم کے سامان مہیا کرتا ہے ۔
گلے شِکوے کرنا اچھا نہیں ہے :۔
ایک روزایک عورت نے کسی دوسری عورت کا گلہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ: