کلمہ طیبہ کی حقیقت :۔
میں کئی بار ظاہر کر چکا ہوں کہ تمہیں صرف اتنے پرخوش نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور لاالہٰ الا اللّٰہ کے قائل ہیں۔ جو لوگ قرآن پڑھتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف زبانی قیل وقال سے کبھی راضی نہیں ہوتا اور نہ نری زبانی باتوں سے کوئی خوبی انسان کے اندر پیدا ہوسکتی ہے جب تک عملی حالت درست نہ ہو۔ کچھ بھی نہیں بنتا۔ یہودیوں ۲؎پر بھی ایک زمانہ ایسا آیا تھا کہ ان میں نری زبان درازی ہی رہ گئی تھی اور انہوں نے صرف زبانوں کی باتوں پر ہی کفایت کر لی تھی۔ زبان سے تو وہ بہت کچھ کہتے تھے مگر دل میں طرح طرح کے گندے خیالات اور زہریلے مواد بھرے ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر طرح طرح کے عذاب نازل کئے اور ان کو مختلف مصیبتوں میں ڈالا اور ذلیل کیا یہاں تک کہ انہیں سور اور بندر بنایا ۔
اب غور کا مقام ہے ۔ کیا وہ تورات کو نہیں مانتے تھے؟ وہ ضرور مانتے تھے اور نبیوں کے بھی ماننے والے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اتنی ہی بات کو پسند نہ کیا کہ وہ نرے زبان سے ماننے والے ہوں اور ان کے دل زبان سے متفق نہ ہوں۔
خوب یادرکھنا چاہیئے۔ اگر کوئی شخص زبان سے کہتا ہے کہ میں خدا کو وحدہٗ لاشریک مانتاہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاتا ہوں۔ اور ایسا ہی اور ایمانی امور کا قائل ہوں، لیکن اگر یہ اقرار صرف زبان ہی تک ہے اور دل معترف نہیں تو یہ زبانی باتیں ہوں گی اور نجات اس سے نہیں مل سکے گی جب تک انسان کا دل ایمان نہ لائے اور اس کا ایمان لانایہی ہوگا کہ وہ عملی حالت میں ان امور کو ظاہر کردے۔ اس وقت تک کوئی بات بنتی نہیں ۳؎
میں سچ کہتاہوں کہ اصل مرادتب ہی حاصل ہوتی ہے جب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ