مجمع کثیر آپ کے ہمراہ تھا جن میں اکثر حصہ سیالکوٹ کے ضلع کے احمدی برادران کا تھا جو کہ اپنے لائق مہتمم چوہدری مولا بخش صاحب کے ہمراہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ ایک شخص نے چند ایک سوالات پیش کئے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ جبکہ خدا تعالیٰ ازل سے خالق ہے اور ابد تک ہے اور ارواح بھی ہمیشہ اس کی خلق میں شامل ہیں اور ہمیشہ چلی جائیں گی تو پھر آریوں کے اعتقاد کے مطابق روح بھی ازلی اور ابدی ہوا۔ فرمایا:۔ یہ بات درست نہیں ۔ اس سوال میں مغالطہ دیا گیا ہے ۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ سے خالق ہے مگر اس کی تمام صفات کو دیکھنا چاہیئے ۔ وہ محي ہے اور ممیت بھی ہے۔ اثبات بھی کرتاہے تو محو بھی کرتا ہے ۔ پیدا بھی کرتا ہے فنا بھی کرتا ہے اس بات کی کیا دلیل ہے کہ روح کو فنا نہیں اور کہ یہی روح ہمیشہ سے چلے آتے ہیں۔ وہ جب تک کسی کو چاہے رکھے۔ ہر ایک چیز فنا ہو جانے والی ہے۔ باقی رہنے والی ذات صرف خدا کی ہی ہے ۔ روح میں جبکہ ترقی بھی ہوتی ہے اور تنزل بھی ہوتاہے تو پھر اس کو ہمیشہ کے واسطے قیام کس طرح ہو سکتاہے؟ جب تک روح کا قیام ہے وہ امر الٰہی کے قیام کے نیچے ہے۔ خدا تعالیٰ کے امر کے ماتحت ہی کس کا قیام ہو سکتاہے اور وہی فنا بھی کرتاہے ۔ وہ ہمیشہ خالق بھی ہے اور ہمیشہ خلق کو مٹاتا بھی ہے۔ مسلمان قدامت کا قائل ہے مگر قدامت نوعی کا نہ کہ قدامت ِ شخصی کا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ پہلے کیا چیزیں اور کیا نہ تھیں۔ اگر اس کے برخلاف قدامت ِ شخصی کا عقیدہ رکھا جاوے تو وہ دہریت میں داخل ہوناہوتا ہے ۔۲؎ ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۶ئ؁ (تقریرحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جو حضور نے بعد نماز ظہروعصر جامع مسجد میں کھڑے ہو کر فرمائی) اب صاحبو! آرام سے سُن لو۔ اگرچہ میری طبیعت بیمارہے اور میں اس لائق نہ تھا کہ کھڑا ہوکر ایک لمبی تقریر کرتا۔ تاہم میں نے خیال کیا کہ لوگ دور دور سے آئے ہیں تاکہ ہماری باتیں سنیں ۔ ایسی صورت میں کچھ نہ کہنا معصیت میں داخل ہوگا۔ لہٰذا باوجود حالتِ بیماری کے میں نے مناسب جانا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت دی ہے میں اس سے سب لوگوں کو اطلاع دوں ۔۱؎