کچھ مدت رہے ۔ ایسا کرنے سے وہ بالکل تندرست ہوگیا اور اب تک زندہ ہے۔
صادقوں کی مخالفت:۔
سیالکوٹ کا ذکر تھا کہ اب مخالفوں کا چنداں زور نہیں رہا ۔ حضرت نے فرمایا:۔
جب کسی کی مخالفت شروع ہوتی ہے تو ایک فریق ضرور تھک کر رہ جاتاہے ۔ مدعی اگر کاذب ہوتو وہ لوگوں کی مخالفت سے تنگ آکر تھک جاتاہے اور اپنا کام چھوڑ دیتاہے اور اگر وہ صادق ہو تو اس کے مخالف اپنی مخالفت میں بالآخر تھک کر رہ جاتے ہیں ۔ یہی حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔ اور یہی حال تمام انبیاء کے زمانہ میں ہوتا رہا۔ صادق ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے ۔ لیکن مخالفوں کے درمیان جہاں تعصب اور بے وقوفی دونو باتیں مل جاویں وہاں بہت ہی زہریلا اثر ہوتاہے۔
دلیل صداقت:۔
فرمایا:۔
جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے مقابلہ میں آئے ۔ خداتعالیٰ نے سب کو ہلاک کر دیا ۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے آپ موت مانگی ۔ مخالفوں کو چاہیئے کہ اس بات پر غور کریں کہ اس کی وجہ کیا ہے کہ جو شخص مقابلہ میں آتا ہے وہی ہلاک ہو جاتاہے ۔ اگر یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو پھر کیا سبب ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے مقابلین کو نیست کر دیتاہے اور اس کو دن بدن سرسبزی ہوتی جاتی ہے؟ ہمارے مخالفوں میں بہت سے لوگ اس قسم کے بھی ہیں جو کہ سچے دل سے ہمارے برخلاف دعائیں مانگتے رہے اور ہم کو اسلام کا دشمن جان کر ناکیں رگڑتے رہے ۔ لیکن کیا خدا تعالیٰ اسلام کا بھی دشمن تھا کہ اس نے ان لوگوں کو ہلاک کر دیا جو کہ سچے مسلمان تھے اور ان کے بالمقابل جس کو وہ اسلام کا دشمن اور دجال یقین کرتے تھے اس کو خدا تعالیٰ نے زندہ رکھا اور اس کے سلسلہ کو روز بروز ترقی دی ۔۱؎
۲۵؍دسمبر ۱۹۰۶ئ
صبح کی سیر
روح ازلی اور ابدی نہیں ہے :۔
۲۵؍کی صبح کو جب حضرت اقدس سیر کے واسطے باہر تشریف لے گئے تو ایک