اس سے سالک کو سخت پرہیز درکار ہے۔ جب خدا مل جاوے تو پھر دنیا کچھ شئے نہیں ۔ جو لوگ دنیا کے پیچھے پڑتے ہیں دنیا ان سے بھاگتی ہے اور جو دنیا کو چھوڑتے ہیں دنیا خود بخود ان کے پیچھے آتی ہے۔ ۱؎
۲۴؍دسمبر ۱۹۰۶ئ
حق کا غلبہ : ۔
قبل از نماز ظہر بہت سے دوست تشریف لا چکے تھے جو کہ مسجد مبارک میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اس وقت اس امر کا ذکر تھا کہ غیر مذاہب کے لوگ احمدی جماعت کے آگے نہیں ٹھہرتے۔
حضرت نے فرمایا کہ :۔
جیسا ہمارے مخالفین نے جو کہ عام مسلمان ہیں ہماری مخالفت میں حق کو چھوڑ رکھا ہے اس واسطے اس مقابلہ میں کھڑے نہیں ہو سکتے ۔ ایسا ہی غیر مذاہب کے لوگوں کا حال ہے ۔ اگر وہ کسی مجلس میں ہمارے برخلاف بات کریں تو اپنی اندرونی باتوں کا اظہار کر اکر خود بخود شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ پس ہمارے مقابلہ میں وہ بھی عاجز ہو جاتے ہیں اور یہ بھی عاجز ہو جاتے ہیں۔
سیالکوٹ کے تاجروں کی ہڑتال:۔
ذکر تھا کہ سیالکوٹ کے تجارنے یہ سبب محصول چنگی میں زیادتی کے دوکانیں بند کر دی تھیں اور چند روز کا نقصان اُٹھا کر پھر خود بخود کھول دیں۔
فرمایا:۔
اس طرح کا طریق گورنمنٹ کی مخالفت میں برتنا ان کی بے وقوفی تھی۔ جس سے اُن کو خود ہی باز آنا پڑا۔ محصول تو دراصل پبلک پر پڑتا ہے۔ آسمانی اسباب کے سبب سے بھی جب کبھی قحط پڑ جاتا ہے تو تاجر لوگ نرخ بڑھا دیتے ہیں۔ اس وقت کیوں دکانیں بند نہیں کر دیتے ؟
امراض سینہ کا علاج :۔
ایک دوست کا ذکر تھا کہ وہ مرض سل و دق میں مبتلا ہے ۔ حضرت نے فرمایا کہ :
ہم نے ایک شخص کو دیکھا تھا کہ وہ امراض سینہ میں گرفتار تھا۔ ڈاکٹر نے ا س کو مشورہ دیا کہ سمندر کے کنارے