۲۹؍نومبر ۱۹۰۶ئ
عمل صالح:۔ ایک درویش حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے ذکر کیا کہ پہلے میں بہت وظائف پڑھتاتھا اور مجھ پر فتوحات کا دروازہ کھلا تھا اور آمد ہوتی تھی مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ حالت جاتی رہی ۔ اب باجود بہت وظائف پڑھنے کے کچھ نہیں آتا ۔ کوئی ایسا طریق بتلائیں کہ پھر وہ بات شروع ہو جاوے۔
حضرت نے فرمایا:۔
فتوحات وغیرہ مقاصد کو مدنظر رکھنا ہماری شریعت کے نزدیک شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف اللہ کی خاطر کرنی چاہیئے ۔ اس میں کسی اور بات کو نہ ملائو اور نہ کوئی اور نیت رکھو۔ عمل صالح وہ ہے جس میں کوئی فساد نہ ہو۔ اگر انسان کچھ دین کا بننا چاہے اور کچھ دنیا کا بننا چاہے تو یہ محض خدا تعالیٰ کے واسطے ہو۔ پھر خدا تعالیٰ اپنے بندے کی پرورش آپ کرتا ہے اور اس کے واسطے گذارے کی صورتیں خود بخود ظاہرہوجاتی ہیں مگر یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے ۔ انسان کے واسطے مناسب نہیں کہ اپنی عبادت کے وقت ایسی باتوں کا خیال دل میں لائے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا رزق آسمان پر ہے دیکھو جب انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ محبت رکھتا ہے تو اس میں بھی خالص محبت وہ سمجھی جاتی ہے جس کے درمیان کوئی غرض نہ ہو۔ اصلی محبت کا نمونہ دنیا کے اندر ماں کی محبت میں قائم ہے کہ وہ اپنے بچے سے کسی غرض کے واسطے محبت نہیں کرتی بلکہ وہ محبت طبعی ہوتی ہے ۔ اگر کوئی بادشاہ بھی کسی عورت کو کہے کہ تو اپنے بچے کے واسطے اتنی تکلیف نہ اٹھا۔ اس کو اپنے حال پر چھوڑ دے ۔ مرے یا زندہ رہے کوئی باز پرس تجھ سے نہیں ہوگی تو وہ عورت بادشاہ پر بجائے خوش ہونے کے سخت ناراض ہوگی کہ یہ میرے بچے کے حق میں موت کا کلمہ منہ سے نکالتا ہے اور محبت کاجوش دو طرفہ ہوتا ہے۔ بچہ نابالغ ہوتا ہے۔ اس کو کوئی سمجھ نہیں کہ دوست کیا ہے اور دشمن کیا۔ مگر ہر حالت میں ماں کی طرف دوڑتا ہے اور اسی سے انس پکڑتا ہے۔ دل رابدل رہیست والا معاملہ ہے۔ جب بچہ نادان ہو کر ماں کی محبت کے عوض میں محبت کرتا ہے ۔ تو خدا ایک بچے سے بھی گیا گذر ا ہے کہ وہ تمہاری محبت کا عوض تم کو نہ دے گا؟ وہ ضرور محبت کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب انسان نرم رفتار سے خدا تعالیٰ کی طرف چلتا ہے تو خدا تعالیٰ دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے۔ جب انسان کا دل خالص ہوجاتا ہے تو پھر دنیا کچھ چیز نہیں وہ تو خود بخود خدمت کرنے کے واسطے تیار ہوجاتی ہے لیکن وظائف کے ساتھ خواہش کرنا کہ دنیا مل جاوے یہ ایک بت پرستی ہے اور