۱۸؍ نومبر ۱۹۰۶ئ؁ دفع شر کیلئے باطنی تدابیر:۔ اس بات کا ذکر تھا کہ بعض شہروں میں جہاں طاعون کا خوف تھا۔ گورنمنٹ چوہے مروانے کا انتظام کر رہی ہے اور ایک اخبار والے نے جو سناتن ہندو ہے اور کسی جی کا مارنا گناہ سمجھتا ہے اس تجویز کی اس پیرایہ میں تردید کی ہے کہ چونکہ چوہوں میں طاعون کا مادہ ہوتا ہے اس واسطے ان کو پکڑنا اور مارنا خود بخود طاعون کے ردی مادہ کو منتشر کرتا ہے۔ حضرت نے فرمایا:۔ یہ ظاہری تدابیر ہیں مگر جب تک باطنی تدبیر نہ کی جاوے طاعون کا اس ملک سے جانا نا ممکن ہے۔ ممکن ہے کہ جیسا کہ اس اخبار والے نے لکھا ہے ۔ طاعونی چوہوں کو پکڑنا اور ہاتھ لگانا وغیرہ بھی کسی حد تک ضرر رساں ہو۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ سب حیلے کیمیا گروں کے سے خیال ہیں کہ شاید اس بوٹی سے سونا بن جاوے۔ شاید اس سے سونا بن جاوے۔ خدا تعالیٰ اسوقت شمشیر برہنہ لے کر کھڑا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دنیا اس کے وجود پر ایمان لائے۔ جب تک دنیا کے لوگ اپنی بدکاریوں اور ضد اور تعصب اور فحش گوئی کو چھوڑ کر اور خدا تعالیٰ کے نشانات کی تحقیر سے توبہ کر کے نیکی اختیار نہ کرلیں تب تک خد ا تعالیٰ اس عذاب کو ان کے سر سے دور نہ کرے گا۔ تعجب ہے کہ ہماری گورنمنٹ ظاہری اسباب کو لیتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتی ۔ پہلے اسلامی بادشاہوں کے متعلق سنا جاتا ہے کہ وہ ایسے مصائب کے وقت راتوں کو اٹھ کر رو رو کر دعائیں کرتے تھے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کو سچے دل سے ماننے والے ہوتے ہیں وہ یہ تماشہ دیکھ لیتے ہیں کہ ذرہ ذرہ اس کے اختیار میں ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے سر کے بال بھی گنے ہوئے ہیں۔ برخلاف اس کے آج کل کے تعلیمیافتوں کا یہ حال ہے کہ اپنی گفتگو میں لفظ انشاء اللہ بھی بولنا خلاف تہذیب سمجھتے ہیں۔ کتابوں کی کتابیں پڑھ جائو کہیں خدا تعالیٰ کا نام تک نہیںآتا۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی ہستی کو منوانا چاہتا ہے۔۱؎