ہے‘بغیر اس کی اطاعت کے ہرگز کچھ بن نہیں سکتا۔ اب تو لوگ ہماری باتوں پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے کہنے سے تو نہیں سمجھتے مگر زمانہ خود ان کو سمجھائے گا۔ حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ:۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ یہ جو صوفیوں نے بنایا ہوا ہے کہ توجہ کے واسطے اس طرح بیٹھنا چاہیئے اور پھر اس طرح دل پر چوٹ لگانی چاہیئے اور ذکر اَرَّہ اور دیگر اس قسم کی کتابیں ۔ کیایہ جائز ہیں؟ فرمایا:۔ یہ جائز نہیں ہیں بلکہ سب بدعات ہیں۔ حَسْبُنَا کَتَابُ اللّٰہ ۔ ہمارے واسطے اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن شریف کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب سلوک کے واسطے کافی ہے جو باتیں اب ان لوگوں نے نکالی ہیں یہ باتیں آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہؓ میں ہرگز نہ تھیں۔ یہ صرف ان لوگوں کا اختراع ہے اور اس سے بچنا چاہیئے ۔ ہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ(التوبہ :۱۱۹) صادق کی صحبت میں رہو تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے امور میں مشکلات آسان ہوجاتی ہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بڑے خدا رسیدہ اور بڑے قبولیت والے انسان تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ کا ارادہ دیکھنا ہو وہ قرآن شریف کو پڑھے اب اگر ہم آنحضرت ﷺ کے فرمودہ طریق پر کچھ بڑھائیں اور نئی باتیں ایجاد کریں یا اس کے بر خلاف چلیں تو یہ کفر ہوگا۔ اس زمانہ میں جیسا کہ علماء کے درمیان بہت سے فرقے بن گئے ہیں۔ ایسا ہی فقراء کے درمیان بھی بہت سے فرقے بن گئے ہیں۔ اور سب اپنی اپنی باتیں نئی طرز کی نکالتے ہیں ۔ تمام زمانہ کا یہ حال ہورہا ہے‘ کہ ہر جگہ اصلاح کی ضرورت ہے۔اسی واسطے خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں وہ مجدد بھیجا ہے جس کا نام مسیح موعود رکھا گیا ہے اور جس کا انتظار مدت سے ہورہا تھا اور تمام نبیوں نے اس کے متعلق پیشگوئیاں کی تھیں اور اس سے پہلے زمانہ کے بزرگ خواہش رکھتے تھے کہ وہ اس کے وقت کو پائیں۔ ۱؎