انسان خدا تعالیٰ کی رضا مندی پر چلے۔ کسی معاملہ میں شریعت کے برخلاف کوئی کام نہ کرے۔ جب خدا تعالیٰ مقدم ہوتو اسی میں انسان کی نجات ہے۔ دنیا داروں میں مداہنہ کی عادت بہت بڑھ گئی ہے۔ جس مذہب والے سے ملے اسی کی تعریف کردی ۔ خدا تعالیٰ اس سے راضی نہیں۔ صحابہؓ میں بعض بڑے دولت مندتھے اور دنیا کے تمام کاروبار کرتے تھے اور اسلام میں بہت سے بادشاہ گذرے ہیں جو درویش سیرت تھے۔ تخت شاہی پر بیٹھے ہوئے ہوتے تھے لیکن دل ہر وقت خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوتا۔ مگر آج کل تو لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب دنیا کی طرف جھکتے ہیں توایسے دنیا کے ہوجاتے ہیں کہ دین پر ہنسی کرتے ہیں۔ نماز پر اعتراض کرتے ہیں اور وضو پر ہنسی اٹراتے ہیں۔ یہ لوگ ساری عمر تو دنیوی علوم کے پڑھنے میں گذار دیتے ہیں اور پھر دین کے معاملات میں رائے زنی کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ انسان کسی مضمون میں عمیق اسرار تب ہی نکال سکتا ہے جب اس کو اس امر کی طرف زیادہ توجہ ہو۔ ان لوگوں کو دین کے متعلق مصالح‘ معارف اور حقائق سے بالکل بے خبری ہے۔ دنیا کی زہریلی ہوا کا ان لوگوں کے دلوں پر زہر ناک اثر ہے۔ دنیائے فانی :۔ فرمایا:۔ دنیا کا انجام تو ظاہر ہے اور اس کا نتیجہ ہر روز ہمارے سامنے اپنی مثالیں پیش کرتا رہتا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایک شخص زندہ ہے اور کل فوت ہوجاتا ہے۔ طاعون کی موت کو دیکھو کتنی جلد ی آجاتی ہے۔ آناً فاناً سینکڑوں مرجاتے ہیں۔ گورنمنٹ نے بھی ٹکریں ماریں اور تدبیریں کیں مگر آج تک کچھ بن نہیں سکا۔ خدا تعالیٰ کا کون مقابلہ کرسکتا ہے۔ دنیا کبھی وفا نہیں کرسکتی۔ انسان ضرور مرجائے گا اور گھر تو قبر میں ہے۔ پس دنیا کے ساتھ دل لگانے سے کیا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے؟ ذات خدا :۔ ایک ذات در پردہ ہے جو اپنے وجود کو اپنے قہری نشانات کے ساتھ دنیا پر ظاہر کرتی ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ وہ موجود ہے۔ عقلمند آدمی اس کے نشانات سے اس کو پہنچانتا ہے۔ اسلام اور دیگر مذاہب :۔ فرمایا:۔ عیسائیوں کا کیا دین ہے کہ ایک انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ہند میں تو اکثر عیسائی اس قسم کے ہیں کہ اگر آج ان کی تنخواہ بند ہوجاوے تو عیسائیت کو چھوڑ کر فوراً علیحدہ ہوبیٹھیں ۔ دوسری طرف آریہ ہیں کہ ان کے نزدیک گناہ معاف ہی نہیں ہوسکتے۔ سود اور کتے بلے ہی ہمیشہ بنتے چلے جاؤ۔ عیسائیوں نے توبہ رکھی تو ایسی کہ اخلاق انسانی کا ہی ستیاناس کردیا۔ زنا کرو۔ چوری کرو۔ خیانت کرو۔ جھوٹ بولو۔ بس مسیح کفارہ ہوگئے۔ چلو چھٹی ہوئی۔ آریہ کہتے ہیں جب انسان گناہ کر چکا تو ہزار پچھتائے‘ ہزاروروئے گناہ معاف ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک ادنیٰ مالک اپنے نوکر کو معاف کرسکتا ہے پر خدا کی لغات میں معافی کا لفظ ہی نہیں۔ اسلام نے ان دونو کے درمیان صحیح اور سچی راہ دکھائی ہے کہ انسان جب دل سے پشیمان ہوتا اور اپنے رب کی طرف جھکتا ہے تو رفتہ رفتہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے نیکیوں کی توفیق ملتی ہے اور ایک گناہ سوز محبت اس کے کاروبار میں اثر دکھاتی ہے۔ ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کے تابع