پیش کیا۔ میں نے کہا ہم تو گوشت نہیں کھاتے جیسا کہ ہم گھاس بھی نہیں کھاتے دیکھو ہم خربوزہ بھی نہیں کھاتے ۔ کیونکہ اگر ہم خربوزہ کھانے والے ہوتے تو تم کو یہ کانٹ چھانٹ نہ کرنی پڑتی ۔ کچھ تم نے اوپر سے کاٹ کر پھینک دیا اور کچھ اندر سے نکال کر پھینک دیا۔ پھر جو درمیان میں رہا اس پر بھی مصری لگائی اور ایک مرکب مصفیٰ چیز بناکر ہمارے آگے رکھی۔ اس مرکب کو ہم کھاتے ہیں۔ ایسا ہی انسان گوشت خور بھی نہیں بلکہ ایک معجون مرکب کو کھاتاہے جو کئی ایک مصالحہ جات اور گھی اور گوشت وغیرہ سے مل کر بنتا ہے۔
میر ناصر نواب صاحب نے فرمایا کہ :۔
اگر گوشت خوری گناہ ہوتا تو ہزاروں لاکھوں بھیڑ بکریاں جو کہ ذبح کی جاتی ہیں ان کے سبب سے خدا تعالیٰ کی ناراضگی انسان پر وار ہوتی ۔ کیونکہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کبھی کسی بادشاہ یا قوم نے کسی دوسری قوم پر ظلم کیا اور بہ سبب ظلم کے اُن کو یا اُن کے بچوں کو قتل کیا تو خدا تعالیٰ کا عذاب ضرور ان پر نازل ہوا اور خدا تعالیٰ نے اس سلطنت اورقوم کو ہلاک کر دیا۔ لیکن ہمیشہ سے جانور ذبح کئے جاتے ہیں جو لاکھوں کروڑوں ہوتے ہیں اور خود ان قوموں کے درمیان ہوتے ہیں جو فاتح قومیں ہیں اور اس وجہ سے ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوتا۔
فرمایا :۔
خدا تعالیٰ کے کام بے نیازی کے بھی ہیں او ر وہ رحم بھی کرنے والا ہے ۔ لیکن میرا عقیدہ یہی ہے کہ اس کی رحمت غالب ہے انسان کو چاہیئے کہ دُعا میں مصروف رہے ۔ آخر کار اس کی رحمت دستگیری کرتی ہے۔ ۱؎
۷نومبر ۱۹۰۶ئ
حالتِ زمانہ:۔
ذکر تھا کہ ہر ایک شخص جوفی زمانہ بڑا بننا چاہتاہے یا شہرت حاصل کرنا چاہتاہے وہ اپنی عزت کے حصول کے ذرائع میں یہ ایک ضروری جزو قرار دیتاہے کہ سلسلہ حقہ کے ساتھ کچھ نہ کچھ عداوت کا اظہار کرتارہے۔
حضرت نے فرمایا:۔
ان لوگوں کی مثال اس پٹھان کی طرح ہے جس کے متعلق رافضی کہا کرتے ہیں کہ اس کو کسی شیعہ نے کہا کہ سُنی تو