۵؍نومبر ۱۹۰۶ئ؁ استقامت :۔ حیدر آباد سے ایک صاحب عابد حسین نام کا خط تجدید بیعت کے واسطے حضرت کی خدمت میں پہنچا۔ حضرت نے جواب میں تحریر فرمایا کہ :۔ آپ کی جدید بیعت منظور ہے۔ آئندہ استقامت رکھیں اور خدا تعلایٰ سے استقامت کیلئے دُعا کرتے ہیں ۔ مرزا غلام احمد ‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی صاحبِ شریعت نبی نہیں آسکتا:۔ اس امر کا ذکر تھا کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی صاحب ِ شریعت نہیں ہو سکتا۔ حضرت نے فرمایا:۔ یہی درست ہے کہ کوئی نبی صاحب شریعت نہیں ہو سکتا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ پر ایسا مت کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات بڑے علم اور فہم کی ہے اور وہ اصل حقیقت سے آگاہ تھیں کہ خدا تعالیٰ نے سلسلہ مکالمات اور مخاطبات کو تو بند نہیں کر دیا۔ البتہ کوئی شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں اور نہ کوئی شخص ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت کے سوائے براہ راست خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکے۔ گوشت خوری :۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ایک ہندو کے ساتھ گوشت خوری کے متعلق اپنی گفتگو کا ذکر کیا۔ حضرت نے فرمایا کہ :۔ اللہ تعالیٰ کے فعل سے استدلال کرنا چاہیئے ۔ دُنیا میں جیسا کہ ہزاروں نباتات ہیں اور مختلف ضرورتوں کے واسطے انسان کی خدمت کے واسطے کار آمد ہیں۔ ایسا ہی ہزاروں جانور بھی ہیں جو کہ انسان کی بہت سی ضرورتوں کے واسطے کار آمد ہوتے ہیں اور ضرورتاً ہندو لوگ بھی استعمال کرتے ہیں۔ بیماری کے وقت مچھلی کا تیل پیتے ہیں۔ علاوہ ازیں گوشت خور قومیں ہمیشہ فاتح رہی ہیں۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ذکر کیا کہ راولپنڈی میں ایک ہندو ہماری خاطر خربوزے لایا اور ان کو تراش کر اور صاف کرکے اور مصری لگا کر ہمارے آگے رکھا اور گوشت خوری کے مسئلہ کو