وغیرہ بیہودہ باتوں کی طرف توجہ کرتے ہیں مگر میں اپنے تجربہ سے کہتاہوں کہ یہ چیزیں کچھ بھی نہیں۔ اصل بات یہی ہے کہ انسان کا دل خدا تعالیٰ کی خالص محبت سے اس طرح پر لبریز ہو جاوے جیسے کہ عطر کا شیشہ بھرا ہوا ہو اور خدا تعالیٰ اس سے خوش ہو جاوے۔ یہ مراد اگر مل جاوے تو اس سے بڑھ کر اور کوئی مراد نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ سے ایسا قرب اور تعلق ہو کہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کا تخت گاہ ہو تو یہ ناممکن ہے کہ یہ اس کے انوارو برکات سے مستفیض نہ ہو اور اس کا کلام نہ سُنے ۔ اگر چاہتے ہو کہ اس کا کلام سُنو تو اس کا قُرب حاصل کرو۔ مگر یہ یاد رکھو کہ اصل مقصود تمہارا یہ نہ ہو ۔ ورنہ میرا اپنا یہی مذہب ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا شرک ہوگا۔۳؎ کیونکہ خدا تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کی محبت کی غرض اصل تو یہ ہوئی کہ الہام ہوں یا کشوف ہوں اور پھر باریک طور پر اس کے ساتھ نفسانی غرض یہ ملی ہوئی ہوتی ہے کہ اس سے ہماری شہرت ہو۔ لوگوں میں ہم ممتاز ہوں۔ ہماری طرف رجوع ہو۔ یہ باتیں صافی تعلقات میں ایک روک ہو جاتی ہیں اور اکثر اوقات شیطان ایسے وقت پر قابو پالیتاہے ۔ وہ باریک نفسانی غرض کو پالیتا ہے ۔ پھر نفسانی خواہشیں بھی آنے لگتی ہیں اور اس طرح پر آخر موقعہ پر شیطان ہلاک کر دیتاہے ۔ اس لیے نہایت امن کی راہ یہی ہے کہ انسان اپنی غرض کو صاف کرے اور خالصتاً رو بخدا ہو۔ اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو صاف کرے اور بڑھائے اور وجہ اللہ کی طرف دوڑے ۔ وہی اس کا مقصود اور محبوب ہو اور تقویٰ پر قدم رکھ کر اعمال صالحہ بجالاوے ۔ پھر سنت اللہ اپنا کام آپ کرے گی۔ اس کی نظر نتائج پر نہ ہو بلکہ نظر تو اسی ایک نقطہ پر ہو۔ اس حد تک پہنچنے کے لیے اگر یہ شرط ہو کہ وہاں پہنچ کر سب سے زیادہ سزا ملے گی تب بھی اسی کی طرف جاوے۔ یعنی کوئی ثواب یا عذاب اس کی طرف جانے کا اصل مقصد نہ ہو۔ محض خداتعالیٰ ہی اصل مقصد ہو۔ جب وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اس کی طرف آئے گا اور اس کا قرب حاصل ہوگا تو یہ وہ سب کچھ دیکھے گا جو اس کے وہم و گمان میں بھی کبھی نہ گذرا ہوگا اور کشوف اور خواب تو کچھ چیز ہی نہ ہوں گے ۔ پس میں تو اس راہ پر چلانا چاہتا ہوں اور یہی اصل غرض ہے اسی کو قرآن شریف میں فلاح کہا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا۱؎(الشمس :۱۰)