بلاتاریخ۲؎
حقیقی مسلمان کا مقصد:۔
حقیقی مسلمان کا یہ مقصد نہیں ہوا کرتا کہ اس کو خوابیں آتی رہیں بلکہ اس کا مقصد تو ہمیشہ یہ ہونا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے ۔
اور جہاں تک اس کی طاقت اور ہمت میں ہے اس کو راضی کرنے کی سعی کرے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ یہ بات نرے مجاہدہ اور سعی سے نہیں ملتی بلکہ یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق پر موقوف ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ رحیم کریم ایساہے کہ اگر کوئی اس کی طرف بالشت بھر آتا ہے تو وہ ہاتھ بھر آتا ہے اور اگر کوئی معمولی رفتار سے اس کی طرف قدم اُٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے ۔ غرض مومن کبھی ان باتوں کو اپنی زندگی کا مقصد تجویز نہیں کرتا کہ اُسے خوابیں آنے لگیں یا کشوف ہوں یا الہامات ہوں۔ وہ تو ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے۔ اللہ تعالیٰ کی مقادیر اور قضا سے راضی ہو جانا بھی سہل امر نہیں۔ یہ ایک مشکل اور تنگ راہ ہے۔ اس سے ہر کوئی گذر نہیں سکتا۔
پس جب انسان ان اغراض کو مدنظر رکھے گا کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے او ر وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہو جاوے اور متقی اور مخلص مومن ہو کر اعمال صالحہ بجالاوے تو ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے جو معاملات ہوا کرتے ہیں اور جو سنت اللہ اس کی جاری ہے وہ اس کے ساتھ بھی ضرورہی ہوگی۔ اس کی خواہش کی حاجت ہی کیا۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلَآئِکَۃُ ( حمٰ السجدہ: ۳۱)یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر انہوں نے سچی استقامت دکھائی یعنی ہر قسم کے مصائب اور مشکلات عسریسر میں انہوں نے قدم آگے ہی بڑھایا اور ہر قسم کے امتحانوں میں وہ پاس ہوگئے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان پر ملائکہ کا نزول ہوتاہے جو اُن کی خوشخبریاں دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ولی ہیں۔ اس حیات دُنیا میں تمہیں کوئی غم اور حزن نہ ہوگا۔ یا دوسری جگہ فرمایا اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النّّوْرِ ( البقرۃ: ۲۵۸) یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کا ولی ہوتاہے اور انہیں ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتاہے ۔
میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ جن کو اس بات کا ٹھرک ہوتاہے کہ انہیں کشف ہو اور بعض کشفِ قبور ، تسخیر