مباہلہ کے لیے اقرار نامہ :۔
جو حکیم مولوی محمد یوسف صاحب سیاح سے ۲۸؍اکتوبر ۱۹۰۶ئ کوقبل ظہر ہوا۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
مباہلہ سے پہلے کتاب حقیقۃ الوحی کوآپ پڑھ لیںاور خوب غور سے سمجھ لیں۔ اس کے بعد بھی اگر آپ میری تکذیب کریں تو مباہلہ ہوگا مگر پہلے دس سوال اس کتاب سے کروں گا۔ ان کے جواب لوں گا تاکہ معلوم ہو آپ نے سمجھ لیا ہے ۔ جو دس سوال میں کروں گا ان کا جواب انہیں الفاظ میں دنیا ہوگا جو میں نے لکھے ہیں اور پھر ایک شخص اس وقت لکھتا جاوے گا اورکتاب سے مقابلہ ہوگا۔ اگر موافق نہ ہوا تو پھر کتاب دیکھنی ہوگی اورپھر اس طرح پردس سوال ہوں گے۔
مکرر یہ بات یاد رہے کہ متفرق مقامات کتاب حقیقۃ الوحی سے دس طور کی باتیں میں مولوی حکیم محمد یوسف صاحب سے دریافت کروں گا اور یہ ایک لازمی امر ہوگا کہ ہرایک سوال کا کتاب کے موافق پورا پورا جواب دیں۔ کسی حصہ میں کمی نہ ہو۔اور اگر کسی سوال کے جواب دینے میں پورا جواب نہ پایا جاوے تو پھر لازم ہوگا کہ دوبارہ کتاب کو اول سے آخر تک دیکھیں اور پھر نئے دس سوال انتخاب کئے جاویں گے۔ اگر اس میں بھی کسی جواب کے دینے میں کمی ہوتو یہی قاعدہ جاری رہے گا جب تک دس سوال کا پورے طور پر جواب نہ دیں۔
حکیم محمد یوسف صاحب نے یہ اقرار کیا کہ وہ کتاب پڑھ کر جب اس غرض کے لیے آئیں گے تو وہ دن اس مطلب کے لیے شمار نہ ہوگا اور وہ خود اس مطلب کے لیے آئیں گے۔ اس کتاب کے پورے دیکھنے سے ایک دن پہلے ہمیں اطلاع دیں تاکہ سوالات کے انتخاب کے لیے وقت مل سکے۔
المعتصم بحبل الفتاح سید محمد یوسف سیاح بقلم ۲۸؍ اکتوبر
دستخط ہندی بابا چٹو مرزا غلام احمد عفی عنہ
گواہ شد: خواجہ کمال الدین کمال ۱؎