ہے کہ میں یہ حق رکھتا ہوں کہ اپنے دعویٰ کی سچائی پر دلائل پیش کروں اور اسی لیے میں نے کہا تھا کہ جن دلائل سے قرآن مجید کا کلام الہٰی ہونا ثابت ہوتا ہے اسی طرح پر میرا ثبوت ہے مگر آپ وہ طرز استدلال پیش نہیں کرتے اور میری بات سنتے نہیں پھر میں کیا کروں۔ میں پھر کہتاہوں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں روشن دلائل دئیے ہیں۔ انہیں ہم ایک ترازو میں رکھتے ہیں اور دوسری طرف ان دلائل کو رکھتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کی سچائی کے دلائل ہیں پھر یہ دونو پلڑے برابر ہوں گے۔ میں جس طرح کتاب اللہ کو مانتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کی کتاب ہے اور آنحضرت ﷺ پر فی الواقعہ نازل ہوئی۔ اسی طرح پر میں اس وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ پر اترتی ہے۔ میں اس کو خدا ہی کا کلام اور خالص کلام یقین کرتا ہوں۔ میں قرآن شریف کا ایک خادم ہوں اور یہ وحی جو مجھ پر اترقی ہے یہ قرآن شریف کی سچائی کا ایک روشن ثبوت ہے۔ نبوت کے فقط یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے کلام کرے اور قدرتی معجزات دکھائے یہ آپ کا حق ہے کہ قرآن شریف سے اس کے معارض ثابت کریں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا وہ کلام جو مجھ پر اترتا ہے میں اس پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسے قرآن شریف پریعنی جیسے قرآن شریف خدا تعالیٰ ہی کا کلام ہے وہ وحی بھی اسی کی طرف سے ہے۔ وکیل بابا چٹو۔ میں اس امر میں آپ کی تکذیب کرتا ہوں۔ اگر تکذیب نہ کرتا تو آپ کی بیعت کرلیتا۔ حضرت اقدس۔ تو کیا پھر آپ مجھے مفتری علی اللہ سمجھتے ہیں؟ وکیل بابا چٹو۔ نہیں میں نہیں کہتا کیوں کہ لا تسبوا پر میرا عمل ہے۔ حضرت اقدس۔ میں آپ سے اور کچھ نہیں کہتا بجز اس کے کہ آنحضرت ﷺ کا دامن پکڑلو۔ سعادت اسی میں ہے۔ وکیل بابا۔ زندہ رسول کے موافق ہوتو مان لیں۔ میں آپ کو مجدد بھی نہیں مان سکتا۔ حضرت اقدس۔ پھر سہل راہ یہ ہے کہ مباہلہ کرلو۔ وکیل بابا۔ میں موجود ہوں۔ حضرت اقدس۔ یہ تو آپ بھی جانتے ہوں گے کہ سادہ لو ح کی تکذیب کچھ چیز نہیں ۔اس لیے پہلے ضروری ہے کہ آپ پر اتمام حجت ہولے ۔میں نے ایک کتاب حقیقۃ الوحی لکھی ہے۔ آپ اس کو خوب غور سے پڑھ لیں اور میرے دلائل پر غور کرلیں۔ اس کے بعد بھی اگربعد امتحان آپ میری تکذیب کریں تب آپ کو مباہلہ کا اختیار ہے۔ وکیل بابا۔ بہت اچھا میں تعمیل کروں گا۔ (اور اس وقت باربار کہتا تھا کہ میں جھوٹا ہوں تو میرا مرنا ہی بہتر ہے) اس کے بعد مباہلہ کے لیے مندرجہ ذیل اقرار نامہ لکھا گیا:۔