وکیل بابا چٹو۔ اس وقت دلیل کی حاجت ہی کیا تھی؟
حضرت اقدس۔ تو آپ کے اس جواب کے موافق قرآن شریف اب ثابت ہوا۔ اس وقت تک محض ایک بے ثبوت کتاب تھی۔ یہ تو بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ کوئی دلیل ہی پیش نہیں کرسکتے بجز اس کے کہ ما وجدنا علیہ آباء نا (المائدہ :۱۰۵) یہ تو کفارہ بھی کہتے تھے۔ اگر یہ اصول آپ قرآن مجید کی حقانیت کا پیش کریں گے کہ سب فرقے مانتے ہیں تو پھر ثابت ہوگا کہ دوسرے مذاہب سچے ہیں کیوں کہ وہ بھی تو اپنی مذہبی کتاب کو مانتے ہیں۔
وکیل بابا چٹو۔ ہم ان کی بات کیوں مانیں۔ ہم کہدیں گے لنا اعمالنا ( البقرہ :۱۴۰)
حضرت اقدس۔ میں بہت افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے اسلام کی حالت پر غور ہی نہیں کی اور قرآن کریم کو سمجھا ہی نہیں۔ اسلام تو اس وقت بتیس دانتوں میں زبان ہو رہا ہے ۔ ہر طرف سے اس پر حملے اور اعتراض ہو رہے ہیں۔ اگر یہی جواب دیا جاوے تو پھر کیا فائدہ ہوگا؟
میں نے پہلے بھی کہا ہے۔ اب بھی یہ کہتا ہوں کہ اگر یہ طریق استدلال صحیح ہو تو قطعی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ فرقوں کا مختلف۱؎طورپر ایک بات کو مان لینا اس کی حقانیت کی دلیل نہیں ہوا کرتا۔ اور یہ ہتھیار اس زمانہ میں ہمارے لئے کام نہیں دے سکتا۔ اگرایک پادری آپ پر اعتراض کرے اور آپ اس کے جواب میں یہ کہہ دیں کہ چوں کہ سب فرقے مان رہے ہیں اس لیے ہم قرآن مجید کو خدا کی کتاب مانتے ہیں تو آپ ہی بتائیں کہ اس کا کیا اثر ہوگا؟
میں آپ کو سچ سچ کہتا ہوں اور محض خدا کے لیے کہتا ہوں کہ آپ اس معاملہ پر غور کریں ۔ ضد اور تعصب اور بات ہے اور حق کو قبول کرنا اور شئے ہے ۔ میں نے بھی مرنا ہے اور آپ نے بھی ایک دن ضرور مرنا ہے۔ پھر کیوں موت کو سامنے رکھ کر میرے معاملہ میں غور نہیں کرتے کیا اس امر میں میں خدا تعالیٰ پر افترا کرسکتا ہوں۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مفتری نہیں ہوں۔ مجھے خدا تعالیٰ نے اس صدی پرامام بنا کر بھیجا ہے اوراپنے وعدوں کے موافق بھیجا ہے اور میں اس میں آپ پر جبر نہیں کرتا کہ آپ ضرور اس کو مان لیں کیوں کہ قرآن مجید میں تو یہ حکم ہے لا اکراہ فی الدین (البقرہ : ۲۵۷) ہاں یہ سچ