قطع کلام پر دلیر کردیا اور جھٹ بول اٹھے کہ ) میں چاہتا ہوں کہ بیعت سے محروم نہ ہوں ۔ حضرت اقدس۔یہ تو خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے ۔ وہ جس کو چاہے ہدایت دے یہ میرا کام نہیں۔ ہاں میں اپنی سچائی کا ثبوت دے سکتا ہوں اور ایسا ثبوت دے سکتا ہوں جو انسانی طاقت سے بالاتر ہو اور جس کی نظیر پہلے انبیاء اور مرسلین کے سوا نہ ملتی ہو۔ بابا چٹو۔ ہاں ٹھیک ہے۔ حضرت اقدس۔ پھر قصہ مختصر ہے۔ ( یہ جملہ بالطبع چاہتا ہے کہ حضرت اقدس اب اپنے ثبوت دعویٰ پر دلائل بیان کریں۔ مگر سید محمد یوسف صاحب کو جو چیز اندر ہی اندر دکھ دے رہی تھی وہ باہر نکلے بغیر رہ نہ سکتی تھی اور ان کا مقصد یہ معلوم ہوتا تھا کہ ان کے جبہ ودستار کی فضیلت جاتی رہے گی اگر اس موقعہ پر انہوں نے کلام نہ کیا۔ اس لئے وہ بے اختیار ہو کر بولے ) بابا صاحب آپ کا سوال نہیں سمجھے۔ میں جواب دیتا ہوں۔ اس پر بابا چٹو نے کہا کہ ہاں مولوی صاحب بیان کریں گے ۔ اس لیے حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کو اختیار ہے کہ یہ بیان کریں ۱؎ جب مولوی سید محمد یوسف صاحب اسی سلسلہ گفتگو میں آداب مجلس کے خلاف دخل اور معقولات دینے لگے تو پھر سلسلہ کلام بابا چٹو کے اشارے سے یوں شروع ہوا۔ وکیل بابا چٹو۔ آپ کا سوال یہ ہے کہ قرآن کو ہم نے کیوں کر مانا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کو ہم نے اس لیے مانا کہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے۔ حضرت اقدس۔ یہ تو عجیب دلیل ہے۔ اس طرح پر تو ہر شخص اپنی کتاب اور اپنے مذہب کی حقانیت آسانی سے ثابت کرسکتا ہے۔ صرف یہ کہہ کر میں ہندوئوں یا عیسائیوں کے گھرم یں پیدا ہوا ہو آپ کی اس دلیل میں اور قرآن مجید کے مقابلہ میں ما وجدنا علیہ اٰباء نا کہنے والوں میں کیا فرق ہے ؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں ؟ وکیل بابا چٹو۔ جب سب مسلمان قرآن کو متفق طور پر مانتے ہیں پھر اس کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت ہی نہیں۔ حضرت اقدس۔ یہ تو خوب جواب ہے۔ جو شخص مسلمانوں کے گھر میں پیدا نہ ہوا ہو کیا اس کو بھی یہی دلیل دو گے؟ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کے اعتقاد کے موافق قرآن مجید کی حقانیت کی دلیل اب پیدا ہوئی جب تیرہ سو سال گذر گئے اور آنحضرت ﷺ کے وقت معاذ اللہ کوئی ہی نہ تھی۔