سے مامور ہو کرآیا کرتا ہے وہ بھی اپنے صدقِ دعویٰ کے دلائل اور نشانات رکھا کرتا ہے ۔ یونہی اگر اس کے کہنے ہی پر ماننے والے ہوں تو پھر دلائل کیوں پوچھیں؟ اس لئے دلائل ہوتے ہیں۔ مگر یہ بھی یادر کھنا چاہیئے کہ یہ لوگ نری منقولی باتوں کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ اُن کی سچائی کے لئے ان کی تائید میں خارق عادت نشانات ظاہر فرماتاہے ۔ پھر ان نشانات سے بھی فائدہ اُٹھانے والے سب نہیں ہوتے ۔ کیاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے دلائل کچھ تھوڑے تھے؟ مگر پھر بھی یہودیوں اور عیسائیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ( معاذ اللہ ) جھوٹا کہہ دیا۔ ان کی تو کتابوں میں بھی آپ کی پیشگوئیاں موجود تھیں ۔ اسی طرح پر میری سچائی ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کے لئے اصل اور آسان راہ وہی ہے جو آپ ان دلائل کا پیش کریں جن سے آپ نے قرآن شریف کو قبول کیا ہے۔
(حضرت حجتہ اللہ اس طرز پر کلام فرما رہے تھے کہ بابا چٹو نے اپنی عمر اور آداب مجلس کا کچھ بھی لحاظ نہ کر کے آپ کا قطع کلام کیا اور درمیان ہی میں بول اٹھے کہ مجھے یہی علم پہنچا ہے کہ سب نبیوں پر قرآن نازل ہوا تھا۔
حضرت اقدس:۔ اب آپ نے ایک اور دعویٰ کردیا۔ اچھا آپ یہ تو بتائیں کہ کوئی دعویٰ بلا دلیل تو نہیں ہوا کرتا۔آپ یہ امر ثابت کریں کہ یہودی جو اس وقت موجود ہیں۔ وہ توریت کا درس کرتے ہیں یا قرآن شریف کا ؟ اور قرآن شریف ان پر توریت کے ذریعہ اتمام حجت کرتا ہے یا نہیں ؟ ایسا ہی عیسائیوں کے پاس انجیل موجود ہے۔ کیا وہ اس انجیل کو پڑھتے ہیں یا قرآن شریف کو ؟ آپ کے اس دعویٰ کا کیا مطلب ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے؟ کیا یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس توریت اور انجیل کے سوا یہ قرآن بھی تھا۔
بابا چٹو۔ نہیں ۔ ان کے پاس قرآن تو نہ تھا مگر نماز ۔ حج ۔ زکوٰۃ وہ بھی کرتے تھے۔
حضرت اقدس۔ پھر کیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ ان پر بھی قرآن شریف اترا تھا؟ یہ تو سچ ہے کہ بعض احکام مشترکہ چلے آئے ہیں اور بعض احکام ایسے ہوتے ہیں کہ ایک امت اور قوم کے لئے خاص ہوتے ہیں۔ جیسے یہودیوں میں اونٹ کا گوشت کھانا یا بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا۔ اور بھی بہت سے احکام ایسے دونو قوموں میں ہیں جو ان کے لئے مخصوص تھے۔ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم وقت اور موقعہ کے حسب حال ہوتی ہے لیکن آنحضرت ﷺ کے وقت چوں کہ ہر قسم کے فساد کمال تک پہنچ چکے تھے اس لئے ان کی اصلاح کے لئے جو تعلیم دی گئی وہ کامل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ خاتم الکتب قرآن مجید نازل ہوا۔اور آپ پر نبوت ختم ہوگئی۔
(حضرت اقدس اس موقعہ پر بھی لمبی تقریر کرنا چاہتے تھے مگر افسوس کہ بابا چٹو کی جلد بازی نے پھر انہیں