کو اُٹھ اُٹھ کر دعائیں بھی تو اسی کے لیے کرتاہے ۔ غرض ماں باپ اور شفیق اُستاد کی سختی سختی نہیں وہ تو عین رحمت اور شفقت ہے ۔ ایسا ہی عادل بادشاہ کی سختی بھی سختی نہیں۔ نادانی سے لوگ اعتراض کر اُٹھتے ہیں اور شور مچاتے ہیں عادل بادشاہ ہمیشہ اپنی رعایا کی بھلائی اور خیر خواہی چاہتاہے ۔
میں بار بار یہی کہوں گا کہ نفس پر ستی کی شیخی خداتعالیٰ کو ہر گز پسند نہیں ہے اس لیے اس قسم کے نزاعوں کو یکدم چھوڑنا چاہیئے ۱؎
یادر کھو اگر ایک بھی راستباز ہوگا وہ ہزاروں کو اپنی طرف کھینچ لائے گا اور راستباز وہ ہے جو اس کے اور اس کے نفس کے درمیان ہزاروں کوس کا فاصلہ ہو۔ مذہب کی جڑ یہی ہے ۔ تقویٰ اور خدا ترسی اور مذہب یہی ہے دکانداری کا نام دین نہیں ہے۔۲؎
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کی صداقت کے دلائل :۔
اس تقریر کے دوران ہی میں شیخ صاحب بھی تشریف لے آئے اور جب حضرت اقدس کو اپنی طرف متوجہ پایا تو پھر آپ سے سلسلہ کلام شروع کیا۔ وہ مکالمہ درج ذیل ہے :۔
باباچٹو۔ قرآن سے اپنا دعویٰ پیش کریں۔
حضرت اقدس۔ میرا دعویٰ انہیں دلائل سے ثابت ہے جن سے قرآن شریف خدا تعالیٰ کا کلام ثابت ہوتاہے پس پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ نے قرآن شریف کو کیوں مانا ہے ؟ جو طریقآپ پیش کریں گے اسی طرح پر میرا دعویٰ ثابت ہو جائے گا۔
بابا چٹو۔ قرآن کو تو اسی طرح مانا ہے جس طرح خدا کو مانا ہے ۔
حضرت اقدس۔ آخر وہ صورت بھی تو آپ بتائیں کہ کس طرح مانا ہے؟ خدا تعالیٰ تو اپنی قدرتوں سے شناخت ہوا ہے مگر قرآن شریف کے ماننے کے وجوہات آپ کے پا س کیا ہیں؟ نرا زبان سے کہہ دینا کہ میں اس کو خدا تعالیٰ کا کلام مانتاہوں دوسرے کی تسلی کا موجب تو نہیں ہوا کرتا۔ ہر نبی اور رسول کوجو خداتعالیٰ کی طرف