میں صلح کو پسند کرتا ہوں اورجب صلح ہوجاوے پھر اس کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہیئے کہ اس نے کیا کہا یا کیا کیا تھا میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص جس نے مجھے ہزاروں مرتبہ دجال اور کذاب کہا ہو اور میری مخالفت میں ہر طرح کوشش کی ہو اور وہ صلح کا طالب ہو تو میرے دل میں خیال بھی نہیں آتا اور نہیں آسکتا کہ اس نے مجھے کیا کہا تھا اور میرے ساتھ کیا سلوک کیا تھا ہاں خدا تعالیٰ کی عزت کو ہاتھ سے نہ دے۔ یہ سچی بات ہے کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی وجہ سے دوسروں کو فائدہ پہنچے اس کو کینہ ور نہیں ہونا چاہیئے اگر وہ کینہ ور ہو تو دوسروں کو اس کے وجود سے کیا فائدہ پہنچے گا؟جہاں ذرا اس کے نفس اور خیال کے خلاف ایک امر واقع ہوا وہ انتقام لینے کو آمادہ ہوگیا۔ اسے تو ایسا ہونا چاہیئے کہ اگر ہزاروں نشتروں سے بھی مارا جاوے پھر بھی پروانہ کرے۔ میری نصیحت یہی ہے کہ دو باتوں کو یادرکھو۔ ایک خدا تعالیٰ سے ڈرو۔ دوسرے اپنے بھائیوں سے ایسی ہمدردی کرو جیسی اپنے نفس سے کرتے ہو۔ اگر کسی سے کوئی قصور اور غلطی سرزد ہوجاوے تو اسے معاف کرنا چاہیئے نہ یہ کہ اس پر زیادہ زور دیا جاوے اور کینہ کشی کی عادت بنالی جاوے۔ نفس انسان کو مجبور کرتاہے کہ اس کے خلاف کوئی امر نہ ہو اور اس طرح پروہ چاہتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے تخت پر بیٹھ جاوے اس لیے اس سے بچتے رہو۔ میں سچ کہتاہوں کہ بندوں سے پورا خلق کرنا بھی ایک موت ہے میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ اگر کوئی ذرا بھی کسی کو توں تاں کرے تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاوے ۔ میں تو اس کو پسند کرتا ہوں کہ اگر کوئی سامنے بھی گالی دے دے تو صبر کرکے خاموش ہورہے۔ انبیاء کی سختی :۔ بعض لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ نبی بعض اوقات سختی کرتے ہیں وہ اس امر کو سمجھ نہیں سکتے کہ ان کی سختی کا رنگ اور ہے ۔ اس میں کینہ ملا ہوا نہیں ہوتا وہ اپنے نفس کے لئے نہیں کرتے ۔ اس میں کوئی ذاتی غرض ان کی مدنظر نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی عزت کے لئے اور اس کی اپنی اصلاح کے لئے ۔ دیکھو ماں بچے کو بعض وقت مارتی بھی ہے اور سخت مارتی ہے ۔ دوسرا دیکھنے والا کہہ سکتا ہے کہ کیسی بے دردی سے مار رہی ہے مگر وہ اس سے ناواقف ہے کہ اس کی شفقت کا اندازہ کر سکے۔ اگر ماں کی محبت اور ہمدردی کی اُسے خبر ہوتی تو وہ ایسا وہم نہ کرتا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اگر بچے کو ذرا بھی درد ہو تو ماں ساری رات بے قرار رہتی اور اس کی خدمت گذاری میں گذار دیتی ہے ۔ دوسرا کون ہے جو اس شفقت اور ہمدردی کا مقابلہ کر سکے۔ اسی طرح پر نبی کی سختی ہوتی ہے اس کے دل میں ایک درد اور کوفت ہوتی ہے خدا تعالیٰ کی مخلوق کی اصلاح کے لئے وہ چاہتاہے کہ خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاوے۔ اگر اپنے کسی خادم پر سختی کرتاہے تو شفیق ماں کی طرح راتوں