تو یہی حکم دیا ہے من کان منکم مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر (البقرہ:۱۸۵)
اس میں کوئی قید اور نہیں لگائی کہ ایسا سفر ہو یا یسی بیماری ہو ۔ میں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں۔ چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور میں نے روزہ نہیں رکھا۔ چلنے پھرنے سے بیماری میں کچھ کمی ہوتی ہے اس لئے باہر جائوں گا۔ کیا آپ بھی چلیں گے۔
بابا چٹو۔ نہیں میں تو نہیں جاسکتا۔ آپ ہو آئیں۔ یہ حکم تو بے شک ہے مگر سفر میں کوئی تکلیف نہیں پھر کیوں روزہ نہ رکھا جاوے۔
حضرت اقدس۔ یہ تو آپ کی اپنی رائے ہے ۔ قرآن شریف نے تو تکلیف یا عدم تکلیف کا کوئی ذکر نہیں فرمایا اب آپ بوڑھے ہوگئے ہیں۔ زندگی کا اعتبار کچھ نہیں۔ انسان کو وہ راہ اختیار کرنی چاہیئے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوجاوے اور صراط مستقیم مل جاوے۔
بابا چٹو۔ میں تو اسی لئے آیا ہوں کہ آپ سے کچھ فائدہ اٹھائوں۔ اگر یہی راہ سچی ہے تو ایسا نہ ہو کہ ہم غفلت ہی میں مرجاویں۔
حضرت اقدس۔ ہاں یہ بہت عمدہ بات ہے۔ میں تھوڑی دور ہو آئوں ۔ آپ آرام کریں۔ ( یہ کہہ کر حضرت اقدس سیر کو تشریف لے گئے )۱؎
(قبل دوپہر)
الصُّلْحُ خَیْرٌ ۲؎ :۔ حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور دو بھائیوں کے کسی باہمی نزاع کا ذکر خواجہ صاحب نے کیا ۔ یہ امر انسانی فطرت کے خلاف نہیں کہ باہم نزاع ہو۔ حقیقی بھائیوں میں بھی ہوجاتا ہے اور انسانی امرجہ کا اختلاف جو خدا تعالیٰ کی ہستی کا بین اور واضح ثبوت ہے اس امر کا مقتضی ہے کہ اختلاف رائے اور اختلاف خیال سے کبھی نزاع بھی پیدا ہو مگر وہ نزاع قابل ذکر یا قابل لحاظ نہیں ہوا کرتا جہاں خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرکے اپنے نزاع کو چھوڑ دیا جاوے۔ بہرحال دو بھائیوں کے نزاع کا ذکر تھا اور خواہش یہ کی گئی تھی کہ حضور ارشاد فرماویں گے تو ان میں سے کسی کو بھی شکایت باقی نہ رہے گی اس پر حضور نے عام طور پر فرمایا:۔