بالیمین ۔ ثم لقطعنا منہ الوین ۔ ( الحاقۃ : ۴۵تا ۴۷) جب ای ایک ایسے عظیم الشان انسان کے واسطے ایسا فرمان ہے تو پھر ادنیٰ کے واسطے تو چھوٹی سی چھری کی ضرورت تھی اور کبھی کا فیصلہ ہو گیا ہوتا۔ ۱؎
۱۸ مئی ۱۹۰۸ئ
بعد نماز ظہر۔ بمقام لاہور
پروفیسر ریگ کے بعض سوالات کے جوابات
وہی پروفیسر ریگ جن کا کسی پہلی اشاعت میں حضرت اقدس سے ملاقات کرنا اور سوال جواب شائع ہو چکا ہے ۔ ۱۸ مئی ۱۹۰۸ئ کو پھر حضرت مفتی محمد صادق کی تحریک اور وساطت سے حضر ت اقدس کے حضور حاضر ہوئے اور خیریت حال دریافت کرنے کے بعد ذیل سوال و جواب ہوا۔
سوال: آپ کا کیا عقیدہہے خدا محدود ہے یا کہ ہر جگہ حاضرو ناظر اور اس میں کوئی شخصیت یا جذبات پائے جاتے ہیں ۔
جواب: ہم خدا تعالیٰ کو محدو د نہیں سمجھتے اور نہ ہی خدا محدود ہو سکتاہے ۔ ہم خدا تعالیٰ کی نسبت یہ جانتے ہیں کہ جیسا وہ آسمان پر ہے ویساہی زمین پر بھی ہے ۔ اس کے دو قسم کے تعلق پائے جاتے ہیں ایک عام تعلق جو عام مخلوق کے ساتھ ہے اور ایک کاص تعلق جو ان خاص بندوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو پاک کر کے اس کی محبت میں ترقی کرتے ہٰں ۔ تب وہ ان سے ایسا قریب ہو جاتا ہے جیسا کہ ان کے اندر ہی سے بولتا ہے ۔ یہ اس میں ایک عجیب بات ہے کہ باوجود دور ہونے کے وہ نزدیک ہے اور باوجود نزدیک ہونے کے وہ دور ہے وہ بہت ہی قریب ہے مگر پھر بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس طرح ایک جسم دوسرے جسم سے قریب ہوتا ہے اور وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی چیز بھی ہے ۔ وہ سب چیزون سے زیادہ ظاہر ہے مگر پھر بھی وہ عمیق در عمیق ہے ۔ جس قدر انسان سچی پاکیزگی حاصل کرتا ہے اسی قدر اس کے وجود پر اس کو اطلاع ہوتی ہے ۔
فرمایا:۔
۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ صفحہ ۲ تا ۱۳ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ئ