کر دیکھاتو اس میں اول سے آخر تک بے نقط گالیوں کے سوا کچھ ہوتا ہی نہیں ور مولوی کہلا کر چوہڑے چماروں کی طرح گندی اور فحش گالیاں نکالتے ہیں کہ انسان کو پڑھتے ہوئے بھی شرم آجاتی ہے ۔ ابھی کہتے ہیں کہ اسلام کسی کی کیا ضرورت ہے جبکہ قرآن موجود ہے اور مولوی موجو د ہیں ۔ یہ نہیں جانتے کہ ان کے مولوی جو ان بھیڑوں کے گلہ بان ہیں خود بھیڑیے ہیں اور وہ ریوڑ کیسے خطرہ میں ہے جس کا کوئی گلہ بان نہ ہو۔ اسلام پر اندرونی اور بیروین حملے ہور ہے ہیں۔ اور ماریں کھا رہا ہے ۔ پس ایسے شخص کی ضرورت تھی کہ مغالطے اور مشکلات دور کر کے پیچیدہ مسائل کو حل کر کرے رستہ صاف کرتا اور اسلام کی اصلی روشنی اور سچا نور دوسری قوموں کے سامنے پیش کرتا۔ دیکھو ایک وہ زمانہ تھا کہ عیسائی لو گ کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کی نہ کوئی پیشگوئی ہے نہ معجزہ ۔ مگر اب میرے سامنے کوئی نہیں آتا حالانکہ ہم بلاتے ہیں خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ تھا۔ اس نے اپنے وعدہ کے موافق وقت پر اپنے دین کی خبر گیری اور دستگیری فرمائی ہے ۔ انا نحن نزلنا الذکروانا لہ لحافظون ( الحجر:۱۰) اسلام کو اس نے دنیا میں قائم کیا، قرآن کی تعلیم پھیلائی اور اس کی حفاظت کا بی وہی خود ذمہ دار ہے ۔ جب انسان اپنے لگائے ہوئے بوٹے کو التزام سے پانی کتاہے تا وہ خشک نہ ہو جاوے تو کیا خدا انسان سے بھی گیا گزرا اور لا پراوہ ہے ۔ یاد رکھو کہ اسلام نے جن راہوں سے پہلے ترقی کی تھی اب بھی انہی راہوں سے ترقی کرے گا۔ خشک منطق ایک ڈائن ہے اس سے انجان آدمی کے اعتقاد میں خلل آتا ہے ۔ اور ظاہری فلسفے روحانی فلسفے کے بالکل مخالف ہیں صاحبان ! یہ امور ہیں جن کی اصلاح کے واسطے میں بھیجا گیا ہوں میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس مجلس میں سے بعض ایسے بھی لوگ اٹھیں گے کہ ان میں کچھ بھی تبدیلی پیدا نہ ہو ئی ہو گی یا ان کے خیالات پر میری ان باتوں کا ذرہ بھی اثر نہ ہوگا۔ مگر یادرکھو جو مجھ سے مقابلہ کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں بلکہ اس سے مقابلہ کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے ۔ اگر ادنیٰ چپڑاسی کی ہتک کی جائے اور اس کی بات نہ مانی جائے تو گورنمنٹ سے ہتک کرنے والے یا نہ ماننے والے کو سزا ملتی ہے اور باز پرس ہوتی ہے ۔ تو پھر خدا کی طرف سے آنے والی کی بے عزتی کرنا اس کی بات کی پرواہ نہ کرنا کیونکر خالی جاسکتاہے ۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر میرا سلسلہ خدا کی طرف سے نہیں تو یونہیی بگڑ جائے گا خواہ کوئی اس کی مخالفت کرے یا نہ کرے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ کہ قد خاب من افتری (طہ:۶۲ ) اور فرمایامن اظلم ممن افتری عی اللہ کذبا( الانعام : ۲۲) اور وہ شخص جو رات کو ایک بات بناتااور دن کو لوگوں کو بتاتا اورکہتا ہے کہ مجھے خدا نے ایسا کہا ہے وہ کیونکر بامراد اور بابر گ و بار ہو سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے ۔ ولو تقول علینا بعض الا قاویل ۔ لا خذنا منہ