اب گنجائش نہیں اور بخاری مین بھی جواصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے ۔ امامکم منکم موجود ہے ۔ اور پھر جب ان کی وفات بھی صراحت سے قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہے تو کیوں ایسا اعتقاد رکھا جاتا ہے ۔جو کہ سراسر قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ کے خلاف ایک عقیدہ ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے خود ان کو معراج کی رات میں وفات شدہ انبیاء کے ساتھ دیکھا ۔ اگر وہ زندہ تھے تو ان کے واسطے الگ کوئی مقام تجویز ہونا چاہیے ۔ تھا نہ کہ مردوں میں ۔ زندہ کو مردہ سے کیا تعلق اور کیا واسطہ ۔ غرج خدا تعالیٰ نے قول سے اور آنحضرت ﷺ نے اپنے فعل سے ثابت کر دیا کہ وہ وفات پاچکے ہیں ۔ اب فما ذابعد الحق الا الضلال ( یونس : ۳۳) مسلماں ہو کر قرآن اور قول الرسول ﷺ کو قبول نہیں کرتے تو نہ کریں ان کا اختیار ہے ۔ میری تکذیب نہیں کر تے بلکہ اس کی جس طرف سے میں آیا ہوں اور اس جس کا میں غلام ہو تکذیب کرتے ہیں ۔ میں کیا اور میری تکذیب کیا۔ بلکہ یہ تو آنحضرت ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں ۔ بات تو ایک ہی ہے قرآن میں خلیفہ کے آنے کی نص موجود ہے اور احادیث میں قرب قیامت کے وقت آنے والے خلیفہ کانام مسیح رکھا گیا ہے ۔ اب ان میں اختلاف کیا ہے ۔ ان الزامات کے سوادوسرے الزام بھی اسی قسم کے بے حقیقت اور ضد اور تعصب کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ان سب کا رد مفصلا ً ہم نے اپنی کتابوں میں کر دیاہے ۔ ان لوگوں کے بعض عقائد تو ایسے ہیں جن سے ایک سچے مسلمان کا دل کانپ جاتا ہے ۔ مثلاً ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ کوئی بھی مس شیطان سے پاک نہیں ۔ بجز عیسیٰ علیہ السلام کے ۔ ان کا یہ مسئلہ کیسا قابل شرم ہے ۔ ہمارے نبی کریم افضل الرسل ۔ پاکوں کے سردار تو مس شیطان سے ( نعوذباللہ) پاک نہیں اور حضرت عیسیٰ ؑ پاک ہیں ۔ کیسا افسوس کا مقام ہے ۔ خدا جانے مسلمان کہلا کر ان کو کیا ہوگیا۔ دیکھو خود آنحضرت ﷺ کا یہ حال ہے اور خود مسلمان آریوں اور عیسائیوں کے ہمزبان بنے ہوئے ہیں ۔ ہمار ا اپنا سب سے پیارانبی جس کی پیروی ہمارا فخر اور ہمارے واسطے باعث عزت اورموجب نجات ہے اگر وہ وفات پا چکے ہیں تو ہم عیسیٰ ؑ کو کیا کریں ۔ بس یہ باتیں ہیں جن پر ہمیں کافر کہا جاتا ہے ۔ دجال کہا جاتا ہے ۔ اور اسلام سے خارج کہا جاتا ہے ۔ اور ہم سے سلام علیکم کرنے والا مصافحہ کرنے والا ۔ملاقات کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے ایسا متعدی کفر ہے ۔ اور تمام جماعت ایک کافروں کا مجموعہ ہے ۔ کیسا افوس آتا ہے کہ جو آنحضرتﷺ کی زندگی اور آپ کے دین کی تجدید اور خدمت کرنے کے واسطے ہر وقت کمر بستہ ہے ۔ اس کو گندی گالیاں نکالتے ہیں ۔ برے برے ناموں سے یاد کرتے ہیں ۔ میرے صندوق بھرے پڑے ہیں ۔ ان کی گندی گالیوں سے بعض اوقات بیرنگ خط محصول ادا کر کے وصول کیا۔ کھول