ہے وہ محدث اورنبی کہلاتے ہیں !؎۔ اچھا میں پوچھتا ہوں کہ ایک انسان خداتعالیٰ سے خبر پاکر دنیا پر ظاہر کرے تواس کانام آپ لوگ عربی زبان میں بجز نبی کے اورکیا تجویز کرتے ہیں؟عجیب بات ہے کہ اسی لفظ کے مفہوم کو اگر زبان اردو میں یا پنجابی میں بیان کیا جائے تومان لیتے ہیں اوراگر عربی زبان میں پیش کریں تو نفرت اورانکار کرتے ہیں ۔یہ تعجب نہیں تواورکیا ہے ؟
اب صرف یہی بات باقی ہے جسے میں ضرور ی سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں نے شاید اس مہذب اورتعلیم یافتہ گروہ کو بھی اس امر میںدھوکادیا ہواور ہم سے بدظن کرنے کی کوشش کی ہو۔ لہٰذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں پر ظاہر کردوں کہ خداتعالیٰ نے مجھے تجدید دین کے واسطے تائید اورنصرت کے ساتھ تازہ نشانات دیکر بھیجا ہے ۔آپ یقینا سمجھیں کہ اگر خداتعالیٰ نے مجھے نہ بھیجا ہوتاتو یہ دین بھی اوردینوں کی طرح صرف قصے کہانیوں میں ہی محدود ہوجاتا ۔خداتعالیٰ سے آنے والا نابود نہیں کیا جاتا ۔انجام کا رخدااس کی سرسبزی دنیا پر ظاہر کردیتا ہے ۔
ان لوگوں نے میری توہین کے واسطے جھوٹ سے تہمت سے افتراء سے اور طرح طرح کے جیلوں سے کام لیا ہے اور ہماری ترقی کو روکنے کے واسطے ہم سے لوگوں کو بد ظن کرنے کے واسطے سے سخت کوششیں کی ہیں ،گر خدا تعالیٰ کی قدرت سے باینہمہ ہماری ترقی ہی ہوتی گئی اور ہو رہی ہے ۔ حتی کہ اب چار لاکھ سے بھی زیادہ لوگ مختلف ممالک میں ہماری جماعت کے موجود ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ سمجھ دار لوگ جب سمجھ لتیے ہیں ۔۔کہ یہی راہ دشمن پر غلبہ پانے کی ہے تو پھر وہ اس پر سچے دل سے قائم ہو جاتے ہیں ۔
اب ہمیں بتائیں کہ جن کا یہ مذہب ہے کہ عیسیٰ مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں اورآنحضرت ﷺ وفات پاکر مدینہ میں مدفون ہیں۔ بتائیے انہوں نے آنحضرت کی عزت پر کیسا حملہ کیا ہے ۔ اور پھر کہتے ہیں کہ وہی اسرائیلی بنی پھر دنیا میں آکر امت محمدیہ کی اصلاح اور تجدید دین کرے گا۔ اب فرمائیے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جب ایک اسرائیلی نبی آگیا تو پھر آنحضرت ﷺ کس طرح خاتم النبین رہے ۔ اس اعتقاد سے تو خاتم النبیین حضرت عیسیٰ ؑ ہوئے نہ آنحضرت ﷺ ۔ حاشاو کلا عیسیٰ ؑ تو خود براہ راست خدا تعالیٰ کے نبی تھے۔ کیا ان کی پہلی شریعت اور نبوت منسوخ ہو جائے گی۔ جب سورہ نور میں ہمیں صاف الفاظ میں وعدہ مل
چکا ہے کہ جو آوے گا تم میں سے ہی آوے گا ۔ تمہارے غیر کو قدم رکھنے کی
۱؎ بدر میں یہ الفاظ ہیں : ’’ حضرت مجدد سرہندی ایسے مکالمہ کے قائل ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی خدا سے خبر پاکر پیشگوئی کرتا ہے تو اسے عربی میں نبوت کے سوا اور کیا کہیں گے۔‘‘
( بدر جلد ۷ نمبر ۲۵ صفحہ ۸ مورخہ ۲۶ جون ۱۹۰۸ئ)