کہ قرآ ن پڑھیں گے مگر قرآن حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ ایمان صرف زبانوں پر ہی ہو گا۔ اب صاف ہے کہ ایسے وقت میں ان کی اصلاح کے واسطے جوشخص آے گا وہ بھی مناسب حال ہی آوے گا اورضرورت اورکام کے لحاظ سے اس کانام بھی مسیح ہوگا۔ کیا یہ ظاہر نہیں کہ دین مرگیا۔ تو پھر جب کسی آدمی کا عزیز دوست حتیٰ کہ پالتو کتا۔بلی ۔ ہی مرجائے تو اسے رنج ہوتا ہے اورافسوس آتا ہے توکیا وجہ کہ دین کی موت کا کسی کو رنج نہیں اورکسی کے دل میں ماتم نہیں نظر آیا ؟ یہ بھی مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں اورکہ میں نے نیا دین بنالیا ہے یا میں کسی الگ قبلہ کی فکر میں ہوں ‘نماز میں نے الگ بنائی ہے یا قرآن کو منسوخ کرکے اور قرآن بنالیا ہے ۔ سواس تہمت کے جواب میں میں بجز اس کے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین (ال عمران ـ:۶۲)کہوں اورکیا کہوں ؟ مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ میرا دعویٰ صرف یہ ہے کہ موجود ہ مفاسد کے باعث خداتعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اورمیں اس امر کا خفاء نہیں کرسکتا کہ مجھے مکالمہ مخاطبہ کا شرف عطاکیا گیا ہے اورخداتعالیٰ مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور کثرت سے ہوتا ہے ۔اسی کانام نبوت ہے مگر حقیقی نبوت نہیں۔ نبا ء ایک عربی لفظ ہے جس کے معنے خبر کے ہیں۔ اب جو شخص کوئی خبر خداتعالیٰ سے پاکر خلق پر ظاہر کرے گا اس کو عربی میں نبی کہیں گے ۔میں آنحضرت ﷺ سے الگ ہوکر کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔ یہ تونزاع لفظی ہے۔کثرت مکالمہ مخاطبہ کو دوسرے الفاظ میں نبوت کہا جاتا ہے دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول کہ قولواانہ خاتم النبیین ولاتقولوالانبی بعدہ اس امر کی صراحت کرتا ہے نبوت اگر اسلام میں موقوف ہوچکی ہے تویقینا جانو کہ اسلام بھی مرگیا اور پھر کوئی امتیازی نشان بھی نہیں ہے ۔ایک باغ جس کو اس کے مالی اور باغبان نے چھوڑ دیا ۔ اسے بھلا دیا ۔اس کی آبپاشی کی اس کو فکر نہیں توپھر نتیجہ ظاہر ہے کہ چند سال بعد وہ باغ خشک ہوکر بے ثمر ہوجاوے گا اور آخر کار لکڑیاں جلانے کے کام میں لائی جاویں گی۔ اصل میں ان کی اورہماری نزاع لفظی ہے ۔مکالمہ مخاطبہ کا تو یہ لوگ خود بھی اقرار کرتے ہیں ۔مجذد صاحب !؎بھی اس کے قائل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جن اولیا ء اللہ کو کثرت سے خداتعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ ہوتا !؎ ’’مجدد صاحب سرہندی ‘‘ (بدرجلد ۷نمبر ۲۵صفحہ ۸مورخہ ۲۵جون ۱۹۰۸ئ؁)