یہ بھی مجھ پر الزام لگایا گیا ہے ۔ کہ میں معجزات سے منکر ہوں حالانکہ میرا ایمان ہے کہ بغیر معجزات کے زندہ ایمان ہی نصیب نہیں ہو سکتا۔ ۱؎ عقل انسان کا کہاں تک ساتھ دے سکتی ہے اور اس کی مدد سے یہ کہا نتک ترقی کر سکتا ہے ۔ خدا تعالیٰ زندہ موجود ہے اور جس طرح اس نے پہلے کام کئے ہیں ابھی ضرور ہے کہ اسی طرح کرے ۔ کیا وجہ کہ پہلے معجزات اور خوارق پر ایمان لایا جاتا ہے اور گذشتہ کا حوالہ دیاجاتا ہے ۔ کیا اب خدا بڈھا ہو گیاہے ۔ یا خدا کی قوت گویائی جاتی رہی ہے ۔ یا اسکی قوت نصرت و قدرت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے ۔
حال کے فلسفہ والے ان باتوں کو نہیں مانتے مگر مین خود س میں صاحب تحریر ہوں ۔ جس طرح پہلے نشان ظاہر ہوتے تھے اب بیھ ہوتے ہیں اور اسی طرح وحی اور الہام نہیں رہا اور وہ مر دہ ہو گیا ہے تو پھر مردے سے کیا امید رکھ سکتے ہیں ۔ کیا مردہ مردے کو زندہ کرسکتاہے ۔ اور اندھا اندھے کی راہبری کر سکتا ہے ۔
میں سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اسی طرح زندہ ہے جس طرح آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں زندہ تھا خد ا تعالیٰ نے ہمیں ایک خاص مقام پر پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔ کیا اب وہ ہمیں راستے میں چھوڑ دیگا۔ مثال کے طور پر بیان کرتا ہوں ۔ کہ مثلا ایک اندھے سے کسی نے وعدہ کیا کہ تمہیں مدارس یا کلکتہ تک پہنچا دیں گے ۔ مگر جب وہ نصف راستہ میں پہنچا تو اس کو چھوڑ دیا۔ اب وہ نہ ادھر کا نہ ادھر کا ۔ کیا یہ انصاف ہے اور ظلم نہیں ۔ ہم خدا تعالیٰ پر ایسا الزام نہیں لگا سکتے کہ اس نے وعدہ تو کیا کہ قیامت تک خلفاء اور مجد دین کا سلسلہ جری رکھو ں گا مگر ایک خاص وقت کے بعد اس نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ سورۃ نور میں آیت استخلاف کو غور سے پڑھ کر دیکھ لو ۔ میں بھی اسی وعدہ کے موافق آیا ہوں اور اس واسط موعود کہلاتا ہوں۔ یہ نہیں کہ آواگون کے طور پر وہی مسیح آگیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ آخری زمانہ میں امت بگڑ جائے گی اور جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانہ میں یہد کی حالت تھی وہی حالت مسلمانوں کی موعود مسیح محمدی کے زمانہ میں ہوجائے گی۔ غیر المغضوب علیھم ولا الضالین ۔ ( الفاتحۃ :۷) میں اسی کی طر ف تواشارہ ہے خود مسلمانوں سے پوچھ لو کہ آخر ی زمانہ کے مسلمانوں اور علما ء کا کیا حال لکھا ہے ۔ یہی لکھا ہے کہ ایسے ہو جاوینگے ۔
۱؎ بدر سے: ’’جس دین میں زندہ معجزات نہیں وہ دین قائم رہ سکتا ہی نہیں ۔ ‘‘
( بد ر جلد ۷ نمبر ۲۵ صفحہ ۸ مورخہ ۲۵ جون ۱۹۰۸ئ )