اس جگہ آپ کانام چراغ رکنے میں ایک اورباریک حکمت یہ ہے کہ ایک چراغ سے ہزاروں لاکھوں چراغ روشن ہو سکتے ہیں ۔ اور اس میں کوئی نقص بھی نہیں آتا۔ چاند سورج میں یہ بات نہیں ۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی اور اطاعت کرنے سے ہزاروں لاکھوں انسان اس مرتبہ پر پہنچیں گے اور آپ کا فیض خاص نہیں بلکہ عام اور جاری ہوگا۔ غرض یہ سنت اللہ ہے کہ ظلمت کی انتہاء کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بعض صفات کی وجہ سے کسی انسان کو اپنی طرف سے علم اور معرفت دے کر بھیجتا ہے ۔ اور اس کے کلام میں تاثیر اور اس کی توجہ میں جذب رکھد تیا ہے ۔ اس کی دعائیں مقبول ہو تی ہیں ۔ مگروہ ان ہی کو جذب کرتے ہیں ۔ اور ان ہی پر ان کی تاثیرات اثر کرتی ہیں ۔ جو اس انتخاب کے لائق ہوتے ہیں ۔ دیکھو آنحضرت ﷺ کانام سرجاً منیراً ۔ مگر ابوجہل نے کہاں قبول کیا۔ باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لالہ روید و در شورہ بوم و خس جس طرح بارش آسمانی زمینیں اپنی اپنی استعداد کے موافق روئیدگی پیداکرتی ہیں ۔ کہیں خس و خاشاک اور کہین گلاب کے پھول بعینہ یہی حال روحانی بارش کے وقت انسانی روحانیت کا ہے ۔ عادت اللہ اسی طرح پر ہے کوئی نرالی بات نہیں ۔ آدم سے لیکر آنحضرت ﷺ تک سلسلہ وحی جاری رہا۔ بعد مین اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ تجدید دین کے واسطے مجدد پیدا کرے گا ۔ تجدد کہتے ہیں ایک کپڑا جو میل کچیل سے آلود ہ ہو گیا ہو اس کو دھو کر صاف کر لیا جاوے اور میل اس سے قطعاً الگ کر دی جاوے اور بالکل نئے کی طرح کر دیا جاوے ۔ اسی طرح جب دین میں ایک زمانہ گذرنے کے بعد عقائد اور اعمال میں طرح طرح کے گند داخل ہو جاتے ہیں اور ایمان بنا ء صرف پرانے قصہ کہانیوں پر ہی رہ جاتی ہے ۔ اور قصوں کے سوائے کچھ ہاتھ میں نہیں رہتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسی ھالت میں اسلام کو آنحضرت ﷺ کی زبانی یہ وعدہ کیا ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایسے شخص بھیجتا رہے گا جو تجدید دین کیا کرینگے مگ چودھویں صدی کا سرا تو بجائے خود چھبیس برس بھی گذر گئے۔ آنے والا حسب وعدہ آنحضرت کﷺعین وقت پر آگیا مگر یہ لوگ اب تک بھی شک میں ہیں ۔ بعض الزامات کا جواب اور مجھ پر خواہ جھوٹ او ر تہمت سے الزام لگاتے ہیں ۔ کہ نعوذ باللہ میں پیغمبروں کو گالیاں دیتا ہوں مگر کیسا ہی خبیث اور ملعون ہے وہ شخص جو کہ برگزیدہ بندوں کا انکار کرے یا ان کی کسی طرح سے اپنے قول سے یا فعل سے توہین کرے۔