تو راتوں جاگتی اور طرح طرح کی تکالیف برداشت کرتی ہے ۔ اب بتائو کہ ماں جو کچھ اپنے بچے کے واسطے کرتی ہے س مین تصنع اور بناوٹ کا کوئی بھی شعبہ پایا جاتا ہے ۔
پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احسان کے درجہ بھی آگے بڑھو اور ایتا ء ذی القربیٰ کے مرتبہ تک ترقی کرو اور خلق اللہ سے بغیر کسی اجر یا نفع و خدمت کے خیال کے طبعی اور فطری جوش سے نیکی کرو تمہاری خلق اللہ سے ایسی نیکی ہو کہ اس میں تصنع اور بناوٹ ہر گز نہ ہو۔ ایک دوسرے موقعہ پر یوں فرمایا ہے ۔ لا نرید منکم جزاء ولا شکورا( الدھر: ۱۰) یعنی کدا رسیدہ اعلیٰ ترقیات پر پہنچے ہوئے انسان کا یہ قاعدہ ہے کہ ا س کی نیکی خالصاً لللہ ہو تی ہے اور اس کے دل میں یہ
خیال بھی نہیں ہوتا کہ اس کے واسطے دعا کی جاوے یا اس کا شکریہ ادا کیا جاوے ۔ نیکی محض اس جوش کے تقاضا سے کرتا ہے جو ہمدردی بنی نوع انسان کے واسطے اس کے دل میں رکھا گیا ہے ۔ ایسی پاک تعلیم نہ ہم نے توریت میں دیکھی ہے اور نہ انجیل میں ۔ ورق ورق کرکے ہم نے پڑھا ہے مگر ایسی پاک اور مکمل تعلیم کانام و نشان نہیں ۔
اس زمانہ میں مصلح اور مجدد کی ضرورت
اس وقت دنیا میں تاریکی بہت پھیلی ہوئی ہے ۔خدا تعالیٰ کی کتاب پر عمل کرنے کے واسطے جو قوت درکار ہے اس مین بہت کمزوری ہے ۔ خدا تعالیٰ کی یہ قدیم سے عادت چلی آئی ہے کہ جب دنیا میں گناہ کی ظلمت پھیل جاتی ہے لوگ زندگی کے مقصد اصلی سے دور جا پڑتے ہیں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ خود اپنی طرف سے ایمانوں کو تازہ کرنے کے واسطے انتظام کرتاا ہے اور مصلح اور مجدد معبوث کرتا ہے ۔سفلی ریفاء مر اس وقت کچھ نہیں ۔ کرسکتے ، خداتعالیٰ کے مقرر کردہ لوگوں ہی کا یہ منصب ہوتاہ ے کہ دلوں پر قابو پاکر ان میں پاک زندگی پیدا کرجاتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے روحانی اصلاح کے لئے مقرر ہونے والے لوگ چراغ کی طرح ہوتے ہیں ۔ اسی واسطے قرآ ن شریف میں آپ ﷺ کانام داعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا( الاحزاب : ۴۷) آیا ہے دیکھو کسی اندھیرے مکان میں جہاں سو پچاس آدمی ہوں اگر ان میں سے ایک کے پاس چراغ روشن ہو تو سب کو ا س کی طرف رغبت ہو گی اور چراغ ظلمت کو پاش پاش کرکے اجالا اور نور کر دیگا۔۱؎
۱؎ بدر سے : ’’چراغ والا اندر اندھیرے میں چلا جائے تو یکدم سب مکان جگمگا اٹھا ہے پھر ہر ایک کو اس کی طرف رغبت ہو جاتی ہے ۔
(بدر جلد ۷ نمبر ۲۵ صفحہ ۸ مورخہ ۲۵ جون ۱۹۰۸ئ)