ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر تمہارے جپ تپ کس مرض کی دوا ہیں ۔ اگر آسمانی تکالیف تمہار ے پہلے اعمال کا نتیجہ ہیں تو کیوں ایک اور عذاب جپ تپ کی مصیبت میں پڑکر اپنے واسطے پیدا کرتے ہو۔
غرض یہ دنوں سلسلے کہ کبھی انسان تکالیف شرعیہ کی پابندی کرکے اپنے ہاتھوں اور کبھی قضا و قدر کے آگے گردن جھکاتا ہے ۔ اس واسطے ہیں کہ انسان کی تکمیل ہو جاوے۔ اسی کی طرف اشارہ کرکے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
بلی من اسلم وجہہ للہ ( البقرۃ :۱۱۳) یعنی اسلام کیا ہے ۔ یہی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کی رضا کے حصول کے واسطے گردن ڈال دینا ۔ ابتلائوں کا ہیبت ناک نظارہ لڑائی میں ننگی تلواروں کی چمک اور کھٹا کھٹ کی طرح آنکھوں کے سامنے موجود ہے ۔ جان جانے کا اندیشہ ہے مگر کسی بات کی پروانہ کرکے خدا کے واسطے یہ سب کچھ اپنے نفس پروارد کر لینا یہ ہے اسلام کی تعلیم کا لب لباب
حقوق العباد کی ادائیگی کے تین مراتب
دوسراحصہ خلق اللہ اور حق العباد کے متعلق ہے ۔ اس کے متعلق قرآن تعلیم یوں بیان ہوئی کہ ؛ ان اللہ یا مر بالعدل والاحسان وایتای ذی القربی( النحل : ۹۱)پہلے فرمایا کہ عدل کرو ۔ پھر اس سے بیھ آگے بڑھ کر فرمایا ۔ احسان کا بھی خدا تعالیٰ نے تم کو حکم کیا ہے یعنی صرف اس سے نیکی نہ کرو جس نے تم سے نیکی کی ہو بلکہ احسان کے طور پر بھی جو کہ کوئی حق نہ رکھتا ہو ک اس سے نیکی کی جاوے اس سے بھی نیکی کرو ۔مگر احسان میں بھی ایک قسم کا باریک نقص اور مخفی تعلق اس شخص سے رہ جاتا ہے جس سے احسان کیا گیا ہے ،کیونکہ کبھی کسی موقعہ پر اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہو جائے جو اس محسن کے خلاف طبیعت ہو یا نافرمانی کر بیٹھے تو محسن ناراض ہو کر اس کو احسان فراموش یا نیک حرام وغیرہ کہہ دے گا اور اگر چہ وہ شخص اس بات کو دبانے کی کوشش بھی کریگا مگر پھر بھی اس میں ایک ایسا مخفی اور باریک رنگ میں نقص باقی رہ جاتا ہے کہ کبھی نہ کبھی ظاہر ہو ہی جاتا ہے ۔ اسی واسطے اس نقص اور کمی کی تلاش کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ احسان سے بھی آگے بڑھو اور ترقی کرکے ایسی نیکی کرو کہ وہ ایتا ء ذی القربیٰ کے رنگ میں رنگین ہو یعنی جس طرح سے ایک ماں اپنے بچے سے نیکی کرتی ہے ۔ ماں کی اپنے بچے سے محبت ایک طبعی اور فطری تقاضا پر مبنی ہے نہ کہ کسی طمع پر ۔ دیکھو بعض اوقات ایک ماں ساٹھ برس کی بڑھیا ہوتی ہے اس کو کوئی توقع خدمت کی اپنے بچے سے نہیں ہو تی کیونکہ اس کو کہاں یہ خیال ہوتا ہے کہ میں اس کے جوان اور لائق ہونے تک زندہ بھی رہونگی غرض ایک ماں کا اپنے بچے سے محبت کرنا بلا کسی خدمت یا طمع کے خیال کے فطرت انسانی میں رکھا گیا ہے ۔ ماں خود اپنی جان پر دکھ برداشت کرتی ہے مگر بچے کو آرام پہنچانے کی کوشش کرتی ہے ۔ خود گیلی جگہ پر لیٹتی ہے اور اسے خشک حصہ بستر پر جگہ دیتی ہے ۔ بچہ بیمار ہو جائے