لاتا ہے ۔ مگر یہ امور چونکہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔ اس لئے کبھی ان میں سستی اور تسائل بھی کر بیٹھتا ہے اور کبھی ان میں کوئی آسانی اور آرام کی صورت ہی پیدا نہیں کر لیتا ہے ۔ لہذا دوسرا وہ طریق ہے جو براہ راست ڈکا تعالیٰ کی طرف سے انسان پر وارد ہوتا ہے اور یہی اناسن کی اصل ترقی کا باعث ہوتا ہے ۔ کیونکہ تکالیف شرعیہ میں انسان کوئی نہ کوئی راہ بچائو یا آرام و آسائش کی نکال ہی لیتا ہے ۔ دیکھو کسی کے ہاتھ میں تازیانہ دے کر اگر اسے کہا جاوے کہ اپنے بدن پر مارو تو قاعدہ کی بات ہے کہ آخر اپنے بدن کی محبت دل میں آ ہی جاتی ہے ۔ کون ہے جو اپنے آپ کو دکھ میں ڈالنا چاہتا ہے ۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے انسانی تکمیل کے واسطے ایک دوسری راہ رکھ دی اور فرمایا۔ ولنبلو نکم بشی ء من الخوف والجوع ونقص من الاموال ولا نفس والشمرت وبشرالصبرین ۔ الذین ا ذا ا بتھم مصیبۃ قالو اانا للہ وانا الیہ رجعون ۔ (البقرۃ : ۱۵۶‘۱۵۷) ہم آزماتے رہین گے ۔ تم کو کبھی کسی مقدر خوف بھیج کر کبھی فاقہ سے کبھی مال جان اور پھلوں پر نقصان وارد کرنے سے ۔ مگر ان مصائب شدائد اور فقروفاقہ پر صبر کرکے انا للہ وانا لیہ راجعون ۔ ( البقرۃ : ۱۵۷) کہنے والوں کو بشارت دے دو کہ ان کے واسطے بڑے بڑے اجر خدا تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کے خاص انعامات مقرر ہیں ۔ دیکھو ایک کسان کس محنت اور جانفشانی سے قبلہ رانی کرے زمین کو درست کرتا ۔ پھر تخمر یزی کرتا۔ آبپاشی کی مشکلات جھیلتا ہے ۔ آخر جب طرح طرح کی مشکلات محنتوں اور حفاظتوں کے بعد کھیتی تیار ہو جاتی ہے تو بعض اوقات خدا تعالیٰ کی باریک در باریک حکمتوں سے ژالہ باری ہو جاتی یا کبھی خشک سالی ہی کی وجہ سے کھیتی تباہ وبرباد ہو جاتی ہے۔ غرض یہ ایک مثال ہے ان مشکلات کی جن کانام تکالیف قضا و قدر ہے ۔ ایسی حالت میں مسلمانون کو جو پاک تعلیم دی گئی ہے ۔ وہ کیسی رضا بالقضاء کا سچا نمونہ اور سبق ہے اور یہ بھی صرف مسلمانوں ہی کا حصہ ہے ۔ آریہ جو کہ روح اور ذات مع ان کے خواص کے خود بخود اور خدا کی طرح ازلی ابدی مانتے ہیں ۔ وہ کیونکر انا للہ کہہ سکتے ہیں ۔ اور یہ توفیق ان کو کیسے نصیب ہو سکتی ہے ۔ غرض تکالیف دو قسم کی ہیں ایک حصہ تو وہ ہے جو احکام پر مشتمل ہے جن میں نماز روزہ زکواۃ حج وغیرہ داخل ہیں ۔ ان میں کسی قدر عذر اور حیلے وغیرہ کی گنجائش ہے اور جب تک پورااخلاص اور کامل یقین نہ ہو انسان ان سے کسی نہ کسی قدر بچنے کی یا آرام کی صورت پیدا کرنے کی کوئی نہ کوئی رانہ نکال لیتا ہے ۔ پس اس طرح کی کوئی کسر جو انسانی کمزوری کی وجہ سے رہ گئی ہو۔ اس کسر کے پورا کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے تکالیف قضا و قدر رکھ دی ہیں تاکہ انسانی فطرت کی کمزوری کی وجہ سے جو کمی رہ گئی ہو خدا تعالیٰ کے فضل کے ہاتھ سے پوری ہو جاوے تکالیف قضا و قدر کانام آریہ آگ پہلی جون کا پھل رکھتے ہیں۔ مگر ہم