مانگو ر اورجس زبان میں چاہو مانگو ۔وہ سب زبانیں جانتا ہے ۔سنتا ہے قبول کرتاہے ۔ اگر تم اپنی نماز کو باحلاوت اورپرذوق بنانا چاہتے ہوتو ضروری ہے کہ اپنی زبان میں کچھ نہ کچھ دعائیں کرو۔ مگر اکثریہی دیکھا گیا ہے کہ نمازیں توٹکریں مارکر پوری کرلی جاتی ہیں پھر لگتے ہیں دعائیں کرنے ۔نماز تو ایک ناحق کا ٹیکس ہوتا ہے ۔اگر کچھ اخلاص ہوتا ہے تونماز کے بعد میں ہوتا ہے ۔یہ نہیں سمجھتے کہ نماز خود دعاکانام ہے جو بڑے عجز‘انکسار ‘خلوص اوراضطراب سے مانگی جاتی ہے ۔بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی گنجی صرف دعاہی ہے ۔خداتعالیٰ کے فضل کے دروازے کھولنے کا پہلا مرحلہ دعاہی ہے ۔ نماز کو رسم اورعادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں بلکہ ایسے نمازیوں پر توخود اللہ تعالیٰ نے لعنت اورویل بھیجا ہے چہ جائیکہ ان کی نماز کو قبولیت کا شرف حاصل ہو۔ ویل للمصلین (الماعون :۵)خود خداتعالیٰ نے فرمایا ہے ۔یہ ان نمازیوں کے حق میں ہے جونما ز کی حقیقت سے اوراس کے مطالب سے بے خبر ہیں ۔صحابہ ؓ توخود عربی زبان رکھتے تھے اوراس کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے ۔مگر ہمارے واسطے یہ ضروری ہے کہ اس کے معافی سمجھیں اوراپنی نماز میں اس طرح حلاوت پیدا کریں ۔مگر ان لوگوں نے تو ایسا سمجھ لیا ہے جیسے کہ دوسرانبی آگیا ہے اور اس نے گویا نماز کو منسوخ ہی کردیا ہے ۔ دیکھو خداتعالیٰ کا اس میں فائدہ نہیں بلکہ خود انسان ہی کا اس میںبھلا ہے کہ اس کو خداتعالیٰ کی حضور ی کا موقعہ دیا جاتا ہے اور عرض معرو ض کرنے کی عزت عطاکی جاتی ہے جس سے یہ بہت سی مشکلات سے نجات پاسکتا ہے ۔میں حیران ہوں کہ وہ لوگ کیونکر زندگی بسر کرتے ہیں جن کا دن بھی گذرجاتا ہے اوررات بھی گذرجاتی ہے مگروہ نہیں جانتے کہ ان کا کوئی خدابھی ہے ۔ یادرکھو کہ ایساانسان آج بھی ہلاک ہوااورکل بھی ۔۱؎ میں ایک ضروری نصیحت کرتا ہوں ۔کاش لوگوں کے دل میں پڑجاوے ۔دیکھو عمر گذری جارہی ہے غفلت کو چھوڑ دواورتضرع اختیار کرو ۔اکیلے ہوہوکر خداتعالیٰ سے دعاکرو کہ خداایمان کو سلامت رکھے اورتم پروہ راضی اورخوش ہوجائے ۔ ترقی کرنے کے دوطریق اول توانسان تشریعی احکام یعنی نماز ‘روزہ ‘زکوٰۃ اورحج وغیرہ تکالیف شرعیہ کی پابندی سے جوکہ خداکے حکم کے موجب خود بجا ۱؎ بدر سے :۔ ’’یہ بات سن لوکہ دنیا فانی ہے ۔بی بی بھی ہے بھائی بھی ۔سب رشتہ دار ہیں ۔مال ودولت ہے یہ سب کچھ لیکن جب تک خداتعالیٰ کو اپنی سپر نہیںبناتا توکچھ بھی نہیں۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۲۵صفحہ ۷مورخہ ۲۵جون ۱۹۰۸ئ؁)