نہیں ‘اخلاص کی ضرورت ہے ۔۱؎ دیکھو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بڑھیا کو بلاناغہ حلواکھلایا کرتے تھے اوران کے اس فعل کی کسی کو خبر نہ تھی ۔ایک دن جب بڑھیا کو حلوا نہ پہنچا ۔ اس نے اس سے یقین کرلیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات پاگئے ۔ اب جائے غور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کیسے تعاھد سے اس بڑھیا کی جو کہ اورکچھ نہ کھاسکتی تھی خدمت کیا کرتے تھے کہ ایک دن حلوانہ پہنچنے سے اس کو یقین ہوگیا کہ آپ وفات پاگئے ۔ یعنی اس بڑھیا کے وہم میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ آپ ؓ زندہ ہوں او ر اس کو حلوانہ پہنچے ۔یہ ممکن ہی نہ تھا۔ غرض یہ ہے اخلاص اوریہ ہیں محض خدا کی راہ میں محض نیک نیتی کے اعمال ۔اخلاص جیسی اورکوئی تلواردلوں کو فتح کرنیوالی نہیں ۔ ایسے ہی امور سے وہ لوگ دنیا پر غالب آگئے تھے ۔ صرف زبانی باتوں سے کچھ ہونہیں سکتا ۔ اب نہ پیشانی میں نور اورنہ روحانیت ہے اور نہ معرفت کاکوئی حصہ ۔خداتعالیٰ ظالم نہیں ہے ۔ اصل بات ہی یہی ہے کہ ان کے دلوں میں اخلاص نہیں۔ نماز کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں صرف ظاہری اعمال سے جو رسم اور عادت کے رنگ میں کئے جاتے ہیں کچھ نہیںبنتا ۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کر میںنماز کی تحقیر کرتا ہوں ۔وہ نماز جس کا ذکر قرآن میں ہے اوروہ معراج ہے۔بھلا ان نمازیوں سے کوئی پوچھے توسہی کہ ان کو سورہ فاتحہ کے معنے بھی آتے ہیں ۔پچاس پچاس برس کے نماز ی ملیں گے مگر نماز کا مطلب اور حقیقت پوچھو تو اکثر بے خبر ہونگے حالانکہ تمام دنیوی علوم ان علوم کے سامنے ہیچ ہیں ۔بایں دنیوی علوم کے واسطے توجان توڑ محنت اورکوشش کی جاتی ہے اوراس طرف سے ایسی بے التفاتی ہے کہ اسے جنتر منتر کی طرح پڑھ جاتے ہیں ۔میں تویہانتک بھی کہتا ہوں کہ اس بات سے مت رکو کہ نماز میں اپنی زبان میں دعائیں کرو۔ بیشک اردو میں ‘پنجابی میں ‘انگریزی میں ‘جوجس کی زبان ہواسی میں دعاکرلے۔ مگر ہاں یہ ضروری ہے کہ خداتعالیٰ کے کلام کواسی طرح پڑھو۔ اس میں اپنی طرف سے کچھ دخل مت دو ۔ اس کو اس طرح پڑھو اورمعنے سمجھنے کی کوشش کرو۔ اسی طرح ماثورہ دعائوں کا بھی اسی زبان میں التزام رکھو۔ قرآن اورماثورہ دعائوں کے بعد جو چاہو خداتعالیٰ سے ۱؎ بدر میں ہے :۔ ’’یہ خیال نہ کروکہ سوسال تک عبادت کرنے ہی سے نجات ہوتی ہے بلکہ خداتو نکتہ نواز ہے وہ ایک نیکی سے بخش دیتا ہے ۔صرف اخلاص چاہئیے ۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۲۵صفحہ ۷مورخہ ۲۵جون ۱۹۰۸ئ؁)